امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے ساتھ فون پر بات کی۔ اس دوران پیزشکیان نے وزیر اعظم کو مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت اور آگے کے راستے کے بارے میں جانکاری دی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ایرانی رہنما کے ساتھ اپنی بات چیت میں انہوں نے بھارت اور دنیا کے لیے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کی اہمیت کو دہرایا۔ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم مودی نے ایران اور امریکہ کے بیچ عبوری معاہدے کا خیرمقدم کیا اور بھارت کے اس یقین پر زور دیا کہ تمام مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
مودی نے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کو یقینی بنانے، جہاز رانی اور تجارت کی آزادی کے تحفظ کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت کا اعادہ کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ فون پر بات چیت کے دوران ایرانی صدر نے وزیر اعظم مودی کو مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت اور آگے کے راستے کے بارے میں جانکاری دی۔
مودی نے ایکس پر لکھا کہ "مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے بات کی۔ مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کا خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ مسلسل کوششیں خطے میں دیرپا امن کا باعث بنیں گی۔ بھارت اور دنیا کے لیے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کی اہمیت کو دہرایا۔”
اس سے قبل ایرانی صدر پیزشکیان نے وزیر اعظم مودی کو اگلے ہفتے ایران کے آنجہانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے مدعو کیا۔
اطلاعات کے مطابق حکومت بہار کے گورنر عطا حسنین اور وزیر مملکت برائے امور خارجہ پبیترا مارگریتا کو خامنہ ای کی آخری رسومات میں بھارت کے نمائندوں کے طور پر بھیجنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ خامنہ ای کی تدفین پانچ سے نو جولائی تک ہو گی۔





