امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 13 جولائی: جموں و کشمیر کی وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو نے کہا ہے کہ انہیں 13 جولائی کے موقع پر مزارِ شہداء میں داخل ہو کر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے سے روک دیا گیا۔
سکینہ ایتو کے مطابق وہ آج صبح تقریباً 4:30 بجے جے کے این سی ویمن ونگ کی صوبائی صدر صبیہ قادری کے ہمراہ مزارِ شہداء پہنچیں، تاہم سکیورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی، قبروں کے گرد خاردار تاروں اور دیگر رکاوٹوں کے باعث انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
سکینہ ایتو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا، "جسمانی رکاوٹیں ہمیں اپنے شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے سے نہیں روک سکتیں۔ ان کی یاد، ہمت اور قربانیاں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی اور ہم پوری عزت و احترام کے ساتھ انہیں یاد کرتے رہیں گے۔”
ادھر انتظامیہ نے سری نگر کے نوہٹہ علاقے میں واقع مزارِ شہداء نقشبند صاحب جانے والے تمام راستوں پر سخت سکیورٹی تعینات کر دی، جبکہ قبرستان کے اطراف خاردار تاریں لگا کر داخلی راستے بند کر دیے گئے۔
دوسری جانب نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں بھی مزارِ شہداء جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ نیشنل کانفرنس نے اعلان کیا کہ وہ اپنے پارٹی ہیڈکوارٹر میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرے گی۔
ادھر پی ڈی پی رہنما التجا مفتی نے کہا کہ انہیں اور پارٹی صدر محبوبہ مفتی کو اتوار کی شام سری نگر کے مضافات میں واقع ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا گیا، جس کی پارٹی نے مذمت کی۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر کی متعدد سیاسی جماعتیں ہر سال 13 جولائی کو 1931 کے شہداء کی یاد میں تقریبات منعقد کرتی ہیں اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتی ہیں۔






