امت نیوز ڈیسک //
تہران/واشنگٹن، 12 جولائی: مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا تیسرا مرحلہ جاری ہے، جس کے دوران تقریباً 140 ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹ کام کے مطابق یہ حملے آبنائے ہرمز میں قبرص کے پرچم بردار کنٹینر بردار جہاز جے ایف ایس گلیکسی پر حملے کے ردِعمل میں کیے گئے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ حملوں میں ایرانی میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری صلاحیتیں، اسلحہ کے ذخائر، مواصلاتی مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی دعوے کے مطابق رواں ہفتے کے دوران ایران کے 300 سے زائد فوجی اہداف پر حملے کیے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز اگلے حکم تک بند کر دی گئی ہے اور اس دوران کسی بھی جہاز کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پاسدارانِ انقلاب نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ قطر میں واقع امریکی العدید ایئر بیس، اُردن میں امریکی فوجی تنصیبات اور عمان کی دُقم بندرگاہ میں امریکی لاجسٹک مراکز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ادھر قطر اور متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔ کویت نے بھی اپنی فضائی حدود میں دفاعی کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکی حملوں میں بوشہر، لرستان، بندر عباس، جاسک، سیرک، چابہار، عسلویہ اور دیگر علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بعض علاقوں میں جانی نقصان کی فوری اطلاع نہیں ملی۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کو اپنے فیصلوں کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے، جبکہ ایران کی قیادت نے امریکی کارروائیوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت جواب جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
دریں اثنا عمان میں ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے مذاکرات بھی جاری ہیں، تاہم تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔






