امت نیوز ڈیسک //
جموں، 17 جولائی: جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے صدر طارق حمید قرہ نے اعلان کیا ہے کہ کانگریس 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کو لے کر نیشنل کانفرنس کے احتجاج میں شرکت کرے گی۔
جموں میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طارق حمید قرہ نے کہا کہ اگرچہ نیشنل کانفرنس نے پہلے کانگریس کی ریاستی درجے کی تحریک میں شمولیت اختیار نہیں کی تھی، تاہم چونکہ یہ جدوجہد جموں و کشمیر کے مستقبل اور ایک کروڑ چالیس لاکھ عوام کے جذبات سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے کانگریس اس احتجاج سے الگ نہیں رہ سکتی۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھڑگے، سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور انہیں احتجاج میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ مرکزی قیادت کی شرکت کے بارے میں فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔
طارق حمید کرا نے دعویٰ کیا کہ ریاستی درجے کی بحالی کی تحریک کا آغاز کانگریس نے کیا تھا اور پارٹی مسلسل ’’ہماری ریاست، ہمارا حق‘‘ مہم کے تحت ضلع اور بلاک سطح پر احتجاجی پروگرام چلا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کانگریس نے پہلے 20 جولائی کو اپنا احتجاج طے کیا تھا، لیکن نیشنل کانفرنس کے اسی روز جنتر منتر پر مظاہرے کے اعلان کے بعد پارٹی نے اپنا پروگرام ایک دن پہلے 19 جولائی کو منتقل کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 19 جولائی کو جموں کے مہاراجہ ہری سنگھ پارک میں دھرنا دیا جائے گا، جس کے بعد لوک بھون تک مارچ کر کے صدرِ جمہوریہ ہند کے نام ریاستی درجے کی جلد بحالی کے مطالبے پر مبنی یادداشت پیش کی جائے گی۔
طارق حمید نے مزید کہا کہ اگر مرکزی حکومت نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا تو کانگریس لکھن پور سے لولاب تک ایک یاترا بھی نکالے گی، جس کے لیے پارٹی تیاریوں میں مصروف ہے۔
آرٹیکل 370 کی بحالی سے متعلق پروفیسر سیف الدین سوز کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کرا نے کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے اور اس کا کانگریس پارٹی کے مؤقف سے کوئی تعلق نہیں ہے۔






