امت نیوز ڈیسک //
سری نگر (جموں و کشمیر):انسانی حقوق پر کام کرنے والی متعدد قومی اور بین الاقوامی تنظیموں نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیر کے معروف انسانی حقوق کے کارکن خُرم پرویز کی ’’فوری اور غیر مشروط رہائی‘‘ کو یقینی بنائے۔ خرم کے خلاف تعذیرات ہند (آئی پی سی) اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کی کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
خرم جموں و کشمیر کولیشن آف سیول سوسائٹی (JKCCS) کے کوآرڈینیٹر اور ایشین فیڈریشن اگینسٹ انوولنٹری ڈسپیئرنس (AFAD) کے چیئرپرسن کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ خرم کو قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے گزشتہ سال 22 نومبر کو گرفتار کیا تھا۔
انسانی حقوق اور سول سوسائٹی تنظیموں نے ایک ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے: ’’اپنی گرفتاری سے قبل 20 سال سے زیادہ عرصے تک خرم جموں و کشمیر خطے میں انسانی حقوق کی وکالت کا ایک جید علمبردار رہا ہے۔‘‘ بیان پر دستخط کرنے والوں میں ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی شامل ہے۔ ایشین فیڈریشن اگینسٹ اِن والنٹری ڈس ایپئرنس، (AFAD)؛ورلڈ الائنس فار سٹیزن پارٹیسپیشن CIVICUSانٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ (ICJ)سمیت دیگر کئی قومی اور بین الاقوامی تنظیمیں شامل ہیں۔
مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’اُن (خرم پرویز) کی من مانی نظر بندی، جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے محافظوں، سول سوسائٹی تنظیموں، صحافیوں اور کارکنوں کے خلاف بھارتی حکام کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایک طویل فہرست کا ایک حصہ ہے۔ ان خلاف ورزیوں کے لیے جوابدہی کے لیے کام کرنے کے بجائے، حکام نے ان لوگوں کو نشانہ بنایا اور گرفتار کیا جنہوں نے اس طرح کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کیا اور انصاف کا مطالبہ کیا۔‘‘
خرم کی 173 دن کی مسلسل حراست کے بعد این آئی اے نے 13 مئی کو اس کے خلاف نئی دہلی میں این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت میں ابتدائی چارج شیٹ داخل کی اور کہا کہ ’’معاملے کی تحقیقات جاری ہے۔‘‘این آئی اے نے (چارج شیٹ میں) خرم پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ’’لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے اوور گراؤنڈ ورکرز (OGW) کا نیٹ ورک چلا رہے ہیں تاکہ تنظیم کی سرگرمیوں کو آگے بڑھایا جا سکے اور ہندوستان میں عسکری کارروائیاں انجام دی جا سکیں۔‘‘قابل ذکر ہے کہ اس کے بعد سے خرم کی نظربندی کو نئی دہلی میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے UAPA کی دفعہ 43D(2)(b) کے تحت کم از کم پانچ بار بڑھایا ہے، جو کہ نظربندی کی مدت کو 180 دن تک بڑھانے کی اجازت دیتا ہے۔ تفتیشی ایجنسی 90 دن کی مدت میں کیس کی تفتیش مکمل کرنے سے قاصر ہے۔











