سرینگر، 30 جنوری :میرواعظ کشمیر اور ممتاز علیحدگی پسند رہنما میرواعظ عمر فاروق نے جموں و کشمیر سے باہر مقیم کشمیریوں پر ہونے والے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جمعہ کو حکام سے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں کشمیریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
جامع مسجد سرینگر میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے اتراکھنڈ کے وکاس نگر علاقے میں 18 سالہ کشمیری شال فروش تابش اور اس کے بھائی دانش پر ہونے والے مبینہ ’’سفاکانہ حملے‘‘ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں بھائیوں کو لوہے کی سلاخوں سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے۔
میرواعظ نے کہا کہ یہ واقعہ جموں و کشمیر سے باہر عام کشمیریوں کو درپیش ’’تشویشناک فرقہ وارانہ پروفائلنگ اور دشمنی‘‘ کے رجحان کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے ہریانہ، ہماچل پردیش اور دیگر ریاستوں سے موصول ہونے والی ایسی ہی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری تاجر، مزدور اور طلبہ کو آئے دن ہراسانی اور تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موسم سرما کے دوران ہزاروں کشمیری روزگار کے حصول کے لیے ملک کے مختلف حصوں کا رخ کرتے ہیں اور ایسے میں ’’کمزور اور محنت کش افراد کو نشانہ بنانا فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔‘‘
میرواعظ نے مساجد، ان کی انتظامی کمیٹیوں، ائمہ اور عبادت گاہوں سے وابستہ افراد کے بارے میں معلومات طلب کیے جانے کی خبروں کو بھی ’’انتہائی تشویشناک‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلسِ علما کے ارکان نے اس معاملے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے اقدامات کو فوراً روکا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کی مختلف مذہبی تنظیموں پر مشتمل متحدہ مجلسِ علما جلد ہی اپنے رکن اداروں اور سینئر مذہبی قیادت کا اجلاس طلب کرے گی، جس میں اس معاملے پر غور و خوض کر کے مشترکہ لائحۂ عمل طے کیا جائے گا۔






