امت نیوز ڈیسک //
جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گھنے جنگلاتی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور محصور ملی ٹنٹوں کے درمیان جاری مقابلہ ہفتہ کے روز ایک نازک مرحلے میں داخل ہو گیا۔ حکام کے مطابق 2 سے 3 ملی ٹینٹ موجود ہو سکتے ہیں۔
یہ گروہ 18، 22 اور 24 جنوری کو تین مختلف مواقع پر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلوں کے دوران فرار ہونے میں کامیاب رہا تھا، جس کے بعد سے ان کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر کارروائیاں جاری تھیں۔ بھارتی فوج اور اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) کشتواڑ پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے اب اسی علاقے میں سخت محاصرہ قائم کر لیا ہے جہاں ملی ٹینٹ پہلے چھپنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
موجودہ صورتحال
حکام کے مطابق 31 جنوری کی علی الصبح ڈولگام علاقے میں جاری آپریشن ترشی-ون کے تحت سیکیورٹی فورسز نے ملی ٹینٹوں سے دوبارہ رابطہ قائم کیا۔ اس مشترکہ کارروائی کی قیادت وائٹ نائٹ کور، جموں و کشمیر پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کر رہی ہے۔
تمام دستیاب ذرائع سے موصول ہونے والی مربوط انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے زمینی سطح پر ایک منظم اور ہدفی کارروائی شروع کی، جس کے تحت مشتبہ علاقے کے گرد کئی سطحوں پر مشتمل محاصرہ قائم کر دیا گیا ہے۔ علاقے میں تاحال آپریشن جاری ہے۔
فوجی ذرائع کے مطابق ملی ٹینٹ دشوار گزار، برف سے ڈھکے پہاڑی علاقے اور قدرتی غاروں کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ دو فٹ سے زائد تازہ برف باری کے باوجود ایلیٹ یونٹس نے فرار کے تمام ممکنہ راستوں کو بند کر رکھا ہے۔






