ہر کوئی انسان کامیابی چاہتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ اپنی محنت کا پھل چاہتا ہے۔ مگر ہر کام میں کچھ اصول ہوتے ہیں جو کسی بھی کام کے نتائج پر نمایاں اثر ڈالتے ہیں اور اس کو کامیابی کا پیرہن پہناتے ہیں۔ دوڑ دھوپ اپنی جگہ، ہر کام کو انجام تک پہنچانے کے لئے جو چیز سب سے زیادہ ضروری ہے وہ ہے ’’سوچ‘‘۔ انسان کی سوچ ہی زندگی پر سب سے زیادہ اثر ڈالتی ہے۔ ہر مشکل وقت میں سوچ ہی ہے جو انسان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے یا پھر ایک جگہ منجمند ہو کر آخری سانس کے لئے منتظر بنا دیتی ہے۔ جتنے بھی معرکے آج تک سر انجام دے گا، وہ صرف سوچ کا نتیجہ ہے۔
اس دنیا میں جس نے بھی نمایاں کام انجام دئے ہیں ان کی سوچ ایک جیسی رہی ہے۔ ان کے مطابق حالات کیسے بھی ہوں، مثبت سوچ رکھ کر آگے بڑھنے میں ہی بھلائی ہے۔ اگر ان کی زندگیوں میں خسارے ہوتے ہیں، تو وہ خسارے میں بھی ترقی کے آثار ڈھونڈتے ہیں۔ ان کے نزدیک زندگی میں جو بھی چیز ہوتی ہے، وہ اپنے ساتھ مثبت اور منفی دونوں چیزیں ساتھ لاتی ہیں ۔ اس کے معنی یہ نہیں ہے کہ وہ منفی حالات سے اثر اندوز نہیں ہوتے ہیں، بلکہ وہ ان حالات میں بھی مثبت سوچ کا دامن نہیں چھوڑتے ہیں۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں کہ آخر کار مثبت حالات کو ہی زندگی میں آنا ہے۔ تو یہ کوئی دانائی نہیں ہے کہ منفی حالات میں منفی سوچ رکھ کر اور منفی ہوجائے جس کے نتائج اور بری شکل میں نکل کر آتے ہیں۔ اس سے تو آنے والا کل بھی متاثر ہوگا۔
اب جو لوگ منفی سوچ کے حامل ہوتے ہیں ان کو مثبت تو سوجھتا ہے، مگر وہ اس پر عمل پیرا ہو نہیں پاتے ہیں۔ یا تو ان کی شخصیت میں یہ بات رچ بس گئی ہوتی ہے کہ ہماری زندگی صرف منفی محور کے اردگرد گھومتی ہے یا پھر وہ چیزوں سے اوپر اٹھ کر دیکھ ہی نہیں پاتے ہیں۔ وہ اپنے ہی خول میں بند رہتے ہیں جہاں صرف منفی سوچ کو جگہ ملی ہے اور باقی کچھ بھی نہیں ہے۔ ان کا ماحول بھی ان کی منفی سوچ کو تقویت بخشتا ہے۔ ان کے آس پاس کے لوگ بھی چیزوں کو منفی زاویے سے دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے سارا ماحول منفی روپ اختیار کرتا ہے۔ مزید براں ان کے یہاں ایسے لوگوں کی کمی ہوتی ہیں جو ان کو منفی سوچ کے مضر اثرات اور مثبت سوچ کے مستقل فوائد سے روشناس نہیں کرا پاتے ہیں۔
مثبت سوچ لانے کے لئے بہت سارے عوامل درکار ہیں۔ سب سے پہلے جو اس کام میں زیادہ ضروری ہے وہ ہے اللہ کی ذات۔ اگر ہم اللہ کی ذات پر کامل بھروسہ رکھتے ہیں تو ہر منفی حالات مثبت میں تبدیل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ جو انسان یہ سوچ رکھتا ہوں کہ اللہ میرے لئے برا نہیں چاہتا ہے، تو وہ کسی بھی مصیبت کو آرام سے مثبت کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ دوسرا ہے مطالعہ۔ اگر انسان ان کتب کا مطالعہ کرے جو مثبت سوچ کے لئے لوگوں کو تیار کرے، تو اندیشہ ہے کہ لوگ مثبت خیالی کو اپنا رویہ بنادیں۔ تیسرا ہے ان لوگوں کی محفلوں میں بیٹھا جائیں جہاں صرف مثبت خیالی کا رواج ہوں۔ جہاں پر لوگوں کو تیار کیا جائے کہ زندگی کا نام ہی ہے مثبت سوچ کے ساتھ مثبت زندگی گزارنا۔آخری ہے اپنے اندر مثبت خیالی کو جگہ دینا۔ ایک انسان اگر کوشش کرے تو کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ بس جب منفی حالات کا سامنا ہوں، تو اپنا پورا زور لگا کر اس سے باہر نکلنے کی جدوجہد کرے۔ اللہ سے مدد مانگ کر ایک انسان مثبت خیالات کو اپنی عادت بنا سکتا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر حال میں مثبت سوچ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے۔









