چند روز قبل سوشل میڈیا پر ٹنگمرگ علاقے کے وائرل ویڈیو نے پوری انسانیت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ایک طرف والدین کی تربیت پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں اور دوسری طرف اولاد بدلحاظ، بےادب، سنگ دل، بداخلاق اور لاپرواہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے اس صورتحال کا زمہ دار کون ہے۔۔؟ یہ فکر ہر اس انسان کو اندر ہی اندر کھا رہی ہے جو آۓ روز سوشل میڈیا پر ایسے واقعات دیکھ رہا ہو۔
گھر میں والدین اور اولاد دونوں موجود ہوتے ہیں، مگر دونوں ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہے۔ ماں باپ اپنی محبت نچھاور کرتے ہیں، مگر بچے انہیں بوجھ سمجھنے لگے ہیں۔ جس تربیت میں ادب، لحاظ اور عزت اولین اصول ہوا کرتے تھے، آج وہاں آزادی کے نام پر خودسری اور نافرمانی نے جگہ لے لی ہے ہم نے کبھی سوچا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔۔۔۔؟ یہ سب اچانک نہیں ہوا۔ والدین اور اولاد کی بے انتہا مصروفیات، ایک دوسرے کے ساتھ کم وقت گزارنا، دینی اور اخلاقی تربیت پر توجہ نہ دینا، اور ہر بات پر سختی یا لاپرواہی یہ سب مل کر وہ خلا پیدا کر رہے ہیں جو اولاد کو والدین سے اور والدین کو اولاد سے دور کر دیتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بچے ہمارے فرمانبردار ہوں، مگر کیا ہم نے ان کے دلوں میں اپنی محبت اور عزت بٹھانے کے لئے کوئی محنت کی؟ کیا ہم نے انہیں وقت دیا، ان کی بات سنی، ان کے مسائل سمجھے؟
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد نافرمانی کے بجائے ادب، لحاظ اور عزت کی راہ پر چلے، تو ہمیں اپنے رویوں کو بھی بدلنا ہوگا۔ بچوں کو صرف حکم نہ دیں، بلکہ ان کے لیے ایسا نمونہ بنیں کہ وہ خود آپ کی عزت کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ کیونکہ اچھی اولاد محض دعاؤں سے نہیں بنتی، بلکہ بہترین تربیت سے پروان چڑھتی ہے۔
یہ ایک نفسیاتی اور سماجی مسئلہ ہے جو اکثر بچے اور والدین کے درمیان تناؤ اور فاصلے کا سبب بنتا ہے۔ نافرمانی کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے عمر کی تبدیلی، تربیت کی کمی اور معاشرتی دباؤ۔ ایسی صورت میں والدین، خاص طور پر ماؤں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ کھل کر بات چیت کریں۔ نافرمانی ایک ایسا رویہ ہے جس میں بچے اپنے والدین یا بزرگوں کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہیں اور ان کی ہدایات کو نہیں مانتے۔ یہ ایک نفسیاتی اور سماجی مسئلہ ہے جو اکثر بچے اور والدین کے درمیان تناؤ اور فاصلے کا سبب بنتا ہے۔ نافرمانی کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے عمر کی تبدیلی، تربیت کی کمی، اور معاشرتی دباؤ۔ جب بچے بڑے ہوجاتے ہیں تو انہیں اپنی ذاتی آزادی کی خواہش کا احساس ہوتا ہے اور وہ اپنے فیصلے خود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ قدرتی عمل ہے، مگر بعض اوقات یہ آزادی والدین کے احکامات کے خلاف جاتی ہے، جس سے نافرمانی کے رجحان میں اضافہ ہوتا ہے۔ لہذا اس ضمن میں والدین، خاص طور پر ماؤں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ کھل کر بات چیت کریں۔ بچوں کو یہ محسوس ہونا چاہئے کہ ان کے خیالات اور جذبات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ جب والدین کے ساتھ بچوں کے تعلقات اچھے ہوتے ہیں تو وہ اپنی بات کا اظہار بلاجھجک کر پاتے ہیں اور فرمانبردار بنتے ہیں۔ اس کے علاؤہ بچوں کو عزت اور محبت بھرے ماحول میں تربیت دینا بہت ضروری ہے۔ اگر بچے اپنے والدین سے محبت پاتے ہیں اور ان کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں، تو وہ نافرمانی نہیں کریں گے۔ والدین، خاص طور پر ماؤں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی پسند اور ناپسند کا احترام کریں اور ان کی ضروریات کا خیال رکھیں۔اور اس کے ساتھ ساتھ والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے رویے اور عمل سے بچوں کے لئے ایک مثال بنیں۔ بچے والدین، خاص طور پر ماں کے رویے کا بغور جائزہ لیتے ہیں اور ان سے سیکھتے ہیں۔ اگر والدین خود نیک نیتی سے کام کرتے ہیں اور اخلاقی اصولوں پر چلتے ہیں، تو بچے ان کی تقلید کریں گے۔اور بچوں کے لئے حدود مقرر کرنا بھی ضروری ہے۔ انہیں بتائیں کہ کس چیز کی اجازت ہے اور کس چیز کی نہیں۔ یہ حدود بچوں کے لئے ایک رہنمائی فراہم کرتی ہیں اور انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہوتا ہے۔ جب بچے اچھا سلوک کریں تو ان سے خوشی سے بات کریں اور نافرمانی کی صورت میں تادیبی سزا دی جاسکتی ہے۔ یاد رہے سزا، مار پیٹ اور زد و کوب کا طریقہ اختیار کرنے کا نام نہیں ہے۔ اس کے علاؤہ مائیں بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتی ہیں اس لئے انہیں اپنی تربیت کے طریقوں پر نظر ثانی کرنی چاہئے اور بچوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کیلئے محنت کرنی چاہئے۔ اگر مائیں بچوں کے جذبات، خواہشات اور ضروریات کا خیال رکھیں تو بچوں میں بات نہ ماننے کا رجحان یقیناً کم ہوگا۔ والدین، خاص طور پر ماؤں کو اپنے بچوں کی زندگی میں متوازن اور مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اکثر مائیں بچوں کے دل میں والد کیلئے ڈر پیدا کرتی ہیں، یہ طریقہ درست نہیں ہے۔ اس سے بچے نافرمان ہوسکتے ہیں۔ اس لئے بچوں کے دل میں خوف پیدا نہ کریں۔ بچوں کی نافرمانی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر پیدا ہوسکتی ہے، مگر اس کا حل کھل کر بات چیت، محبت اور مناسب تربیت میں چھپا ہوا ہے۔
والدین اور اولاد دونوں کو چاہئے کہ وہ آپس میں وقت گزاریں، ایک دوسرے کی باتوں کو سنیں، اور انہیں اپنی تربیت میں شامل کریں۔ اگر یہ سب کیا جائے، تو بچے فرمانبردار بن سکتے ہیں اور ان کے ساتھ ایک مثبت اور مضبوط تعلق قائم کیا جاسکتا ہے۔








