• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعرات, جنوری ۲۲, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
احساس و ہمدردی سے عاری لوگ

داستانِ عہدِ رفتہ: جب مٹی سونا تھی….​چند یادیں بیتے دنوں کی

الطاف جمیل شاہ/سوپور کشمیر

by امت ڈیسک
09/01/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

​بیس بائیس سال کا عرصہ انسانی تاریخ میں شاید ایک پل کے برابر بھی نہ ہو، لیکن ایک انسانی زندگی کے مشاہدے میں یہ ایک پوری صدی کی تبدیلی کا بوجھ لیے ہوئے ہے۔ میں جب آج کے کنکریٹ کے جنگلوں، اونچی دیواروں اور ڈیجیٹل سکرینوں میں قید زندگی کو دیکھتا ہوں، تو میرا ذہن لاشعوری طور پر اس کچی مٹی کی خوشبو کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے جہاں سے میرا سفر شروع ہوا تھا۔ وہ دور جب ہماری کائنات موبائل کے چند انچ کے ڈسپلے میں نہیں، بلکہ آسمان کی وسعتوں اور زمین کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی تھی۔

​ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے دو جہانوں کے درمیان پل کا کردار ادا کیا ہے۔ ایک وہ جہاں سادگی ہی حسن تھی، اور دوسرا یہ جہاں آسائشیں تو بہت ہیں مگر سکون مفقود ہے۔ مجھے یاد ہے وہ سردیاں جب آسمان سے روئی کے گالوں کی طرح برف گرتی تھی، تو ہم اسے صرف موسم کی تبدیلی نہیں سمجھتے تھے، بلکہ یہ قدرت کی طرف سے ہمارے لیے ایک جشن کا پیغام ہوتا تھا۔ آج کے بچے برف باری کو کھڑکی کے شیشے کے پیچھے سے دیکھتے ہیں یا کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرتے ہیں، مگر ہمارا رشتہ اس برف سے لمس کا تھا۔ ہم اس پر بے فکری سے خود کو رگڑتے، گرتے، سنبھلتے اور پھر ہنستے ہوئے گر جاتے۔ چوٹ لگنا کوئی حادثہ نہیں تھا، بلکہ کھیل کا ایک تمغہ تھا جسے ہم فخر سے سجائے گھر لوٹتے تھے۔ مٹی اور برف ہمارے جسموں پر لگی ہوتی تھی، مگر ہمارے دل آج کے دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ اجلے اور شفاف تھے۔

وہ کالی تختی اور قلم کی ریاضت

​آج جب میں سکول جاتے بچوں کے بھاری بستے دیکھتا ہوں، تو مجھے اپنے وہ دن یاد آتے ہیں جب کندھے پر بوجھ نہیں، بلکہ دل میں امنگ ہوا کرتی تھی۔ ہمارا بستہ کیا تھا؟ بس ایک کپڑے کا تھیلا یا کسی عام سے لفافے میں لپٹی چند کتابیں۔ لیکن ان کتابوں سے زیادہ اہمیت اس "سیاہ تختی” کی تھی جو ہماری تعلیمی زندگی کا محور تھی۔

​صبح سویرے اٹھ کر سب سے پہلا معرکہ اس تختی کو چمکانے کا ہوتا تھا۔ یہ صرف ایک تختہ نہیں تھا، بلکہ ہماری شخصیت کا آئینہ تھا۔ ہم گاجنی (سفید مٹی) کو پانی میں گھول کر اسے تختی پر ملتے، پھر کسی پیالے یا ہموار پتھر سے اسے اس وقت تک رگڑتے جب تک کہ اس کی سطح شیشے کی طرح ہموار نہ ہو جاتی۔ یہ رگڑنا صرف تختی کو ہموار کرنا نہیں تھا، بلکہ یہ ہمارے صبر کی پہلی مشق تھی۔ اس کے بعد قلم کو تراشنا ایک الگ فن تھا۔ چاقو سے قلم کی نوک کو ایک خاص زاویے پر کاٹنا (قط لگانا) استاد کی شاگردی کا پہلا سبق تھا۔

جب ہم دوات میں قلم ڈبو کر اس چمکتی تختی پر پہلا حرف لکھتے تھے، تو وہ صرف لکھائی نہیں ہوتی تھی، بلکہ وہ ایک ریاضت تھی جو ہمارے اندر نظم و ضبط پیدا کرتی تھی۔ قلم کے چلنے کی وہ مخصوص آواز آج بھی میرے کانوں میں رس گھولتی ہے۔ وہ حرف جو ہم لکھتے تھے، وہ صرف لفظ نہیں تھے بلکہ ہماری محنت کا نچوڑ تھے۔ آج کے کی بورڈز اور ٹچ سکرینز نے ہمیں وہ "لمس” اور وہ "لذت” چھین لی ہے جو ہاتھ سے حرف تراشنے میں ملتی تھی۔

فطرت کا دسترخوان اور بے فکر ٹولیاں

ہمارا بچپن فطرت کے ساتھ ایک گہرے معاہدے پر استوار تھا۔ ہمارا دن چڑیوں کی چہچہاہٹ سے شروع ہوتا اور ہم سارا دن ان کے پیچھے دیوانہ وار دوڑتے رہتے۔ کبھی بلبل کی اڑان میں اپنی اڑان تلاش کرتے اور کبھی تتلیوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے میلوں دور نکل جاتے۔ ہمیں کسی پارک یا مصنوعی تفریح گاہ کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ پوری کائنات ہمارا کھیل کا میدان تھی۔
​تعطیل کا دن آتا تو نہر یا تالاب ہماری پناہ گاہ بن جاتے۔ پانی کی لہروں میں چھوٹی مچھلیوں کے پیچھے بھاگنا، ان کو پکڑنے کی ناکام کوششیں کرنا اور پھر پانی میں چھپاکے لگانا—یہ وہ یادیں ہیں جو آج بھی روح کو تازگی بخشتی ہیں۔ پورا دن دھوپ اور پانی میں بیت جاتا، مگر تھکن کا نام و نشان نہ ہوتا۔

​بھوک لگتی تو ہمیں کسی فاسٹ فوڈ یا مہنگی دکان کی حاجت نہ تھی۔ قدرت کا دسترخوان ہر وقت بچھا رہتا تھا۔ جنگلی جڑی بوٹیاں، پہاڑی میوے، بیر اور شہتوت کھا کر ہم ایسے سیر ہوتے تھے کہ بادشاہوں کی ضیافتیں بھی اس کے سامنے ہیچ تھیں۔ ہمیں معلوم تھا کہ کون سی بوٹی کھٹی ہے اور کون سا پھل میٹھا ہے۔ رات کو جب ہم تھک ہار کر گھر لوٹتے، تو اکثر کچھ کھائے بنا ہی گہری نیند کی آغوش میں چلے جاتے، کیونکہ ہماری روح فطرت کی توانائی سے لبریز ہوتی تھی۔ میلی رنگت اور گرد و غبار سے اٹے ہوئے ہمارے جسم دراصل اس بات کی گواہی دیتے تھے کہ ہم نے زندگی کو اس کی اصل روح کے ساتھ جیا ہے۔

​ دیواروں کے بغیر گھر اور سانجھی ممتا

آج کے دور میں گھروں کی دیواریں جتنی اونچی ہو گئی ہیں، دل اتنے ہی سکڑ گئے ہیں۔ مگر ہمارے بچپن میں دیواریں محض حد بندی تھیں، رکاوٹ نہیں۔ دوستوں اور پڑوسیوں کے گھروں کے درمیان کوئی ایسی آڑ نہ تھی جو ہمیں ایک دوسرے سے جدا کر سکے۔ ان دنوں گھر صرف اینٹ پتھر کے ڈھانچے نہیں تھے بلکہ ایک وسیع و عریض آنگن تھے جہاں ہر بچہ ہر گھر کا لاڈلا تھا۔
​سب سے کمال بات ہماری ماؤں کا رویہ تھا۔ تب مائیں "اپنے” اور "پرائے” کے فرق سے بالکل ناواقف تھیں۔ اگر ہم کسی دوسرے کے گھر میں شرارت کرتے تو وہاں کی ماں کو بھی ہمیں ڈانٹنے یا پیار کرنے کا وہی حق حاصل تھا جو ہماری اپنی سگی ماں کو تھا۔ اس ڈانٹ میں کبھی بیگانگی کا احساس نہیں ہوا، کیونکہ اس میں وہی ممتا اور وہی تڑپ ہوتی تھی۔ جب کسی ایک گھر میں کوئی خاص پکوان تیار ہوتا، تو اس کی خوشبو پورے محلے میں پھیل جاتی تھی، اور وہ ہنڈیا صرف ایک گھر کے لیے نہیں بلکہ پورے محلے کے بچوں کے لیے پکتی تھی۔ وہ بانٹ کر کھانے کی لذت آج کے پرتعیش ریستورانوں میں کہاں؟ ہم سب کی پلیٹیں الگ تھیں مگر دسترخوان ایک ہی تھا، اور یہی وہ برکت تھی جو ہمیں کبھی بھوکا نہیں سونے دیتی تھی۔

رشتوں کا تقدس اور حیا کا فطری پہرا

​وہ ایک غضب کا احساسِ تحفظ تھا جو آج کی نسل کے لیے شاید ایک خواب لگے۔ محلے کی ہر بیٹی، ہر بہن، ہم سب کی سانجھی عزت تھی۔ ہم سب بھائیوں کی طرح ان کے پہرے دار تھے۔ اس ایک رشتے میں اتنی پاکیزگی اور اتنی طاقت تھی کہ کسی "غیر” یا کسی برے خیال کا تصور تک نہ کیا جا سکتا تھا۔ ہم لڑکے لڑکیاں ایک ساتھ دھول اڑاتے، کھیل کود میں مگن رہتے، مگر نیتوں میں کبھی میل نہ آیا۔

​حیا ہمارے لیے کوئی مسلط کردہ قانون نہیں تھی، بلکہ وہ ہمارے خون میں رچی بسی تھی۔ وہ ایک ایسا فطری حصار تھا جس کی حفاظت ہر بچہ لاشعوری طور پر خود کرتا تھا۔ نظروں کا جھکاؤ اور لہجے کا ادب سکھایا نہیں جاتا تھا، بلکہ بڑے بوڑھوں کو دیکھ کر خود بخود ہماری تربیت کا حصہ بن جاتا تھا۔ آج جب میں معاشرے میں رشتوں کی پامالی اور بیگانگی دیکھتا ہوں، تو وہ بیس بائیس سال پرانا دور یاد آتا ہے جب ایک ہی محلے کے لوگ ایک ہی خاندان کی طرح جیتے تھے اور کسی کی تکلیف پورے محلے کی سانجھی تکلیف ہوتی تھی۔

بچوں کی مرکزیت اور بے باک قہقہے

ہمارے بچپن میں خوشی کی پہلی شرط بچوں کی موجودگی تھی۔ کوئی بھی تقریب، چاہے وہ شادی ہو یا عید کا تہوار، تب تک ادھوری سمجھی جاتی تھی جب تک ہم بچوں کا شور اور ہماری کلکاریاں اس میں شامل نہ ہوتیں۔ ہمارا شور کسی کے لیے وبالِ جان نہیں تھا، بلکہ اسے زندگی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ محلے کے بزرگ ہماری شرارتوں پر مسکراتے تھے اور ہمارے قہقہے فضاؤں میں ایک عجیب سی توانائی بھر دیتے تھے۔

​ہمارے پاس آج کی طرح کے مہنگے کھلونے یا گیجٹس نہیں تھے، لیکن ہماری تخلیقی صلاحیتیں عروج پر تھیں۔ ہم مٹی سے وہ سب کچھ بنا لیتے تھے جو ہم خوابوں میں دیکھتے تھے۔ کبھی لکڑی کے ٹکڑوں سے اپنی گاڑیاں بناتے، تو کبھی پرانے کپڑوں سے گڑیا تیار کرتے۔ وہ سادگی ہی ہماری اصل دولت تھی۔ ہم نے ٹوٹے ہوئے کھلونوں کو جوڑنا سیکھا تھا، اس لیے ہم رشتوں کو بھی جوڑنا جانتے تھے۔ آج کل کے بچے چیزیں ٹوٹنے پر نئی مانگتے ہیں، اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ رشتوں کے ٹوٹنے پر بھی انہیں بدلنے کی فکر کرتے ہیں، جوڑنے کی نہیں۔

​ترقی کا زہر اور معصومیت کا قتل

پھر یوں ہوا کہ زمانے نے "ترقی” کا ایک چمکدار لبادہ اوڑھ لیا۔ ہمیں بتایا گیا کہ اب دیواریں اونچی ہونی چاہئیں تاکہ پرائیویسی محفوظ رہے، ہمیں بتایا گیا کہ مٹی میں کھیلنا بیماریوں کو دعوت دینا ہے، اور ہمیں یقین دلایا گیا کہ ہاتھ میں پکڑا ایک چھوٹا سا موبائل پوری کائنات سے بڑا ہے۔ ہم نے اس ترقی کو گلے لگایا، مگر اس کی قیمت ہم نے اپنی معصومیت دے کر ادا کی۔
​اس نام نہاد ترقی نے سب سے پہلے ہمارے وہ بے باک قہقہے چھین لیے جو کبھی محلوں کی زینت ہوا کرتے تھے۔ آج گھروں میں بچے تو ہیں، مگر ان کا شور نہیں ہے۔ وہ ایک کونے میں دبکے سکرینوں پر انگلیاں تھرکاتے رہتے ہیں۔ وہ جو مٹی کی خوشبو سے ہمارا رشتہ تھا، اسے سینیٹائزر کی بو نے نگل لیا۔ کلکاریاں خاموش ہو گئیں اور وہ مٹی کے گھروندے جن میں ہم اپنی پوری کائنات بسا لیتے تھے، اب صرف یادوں کے قبرستان میں دفن ہیں۔ ترقی نے ہمیں سہولتیں تو دیں، مگر وہ بے فکری چھین لی جو ہماری اصل طاقت تھی۔

​سکرینوں کی قید اور بچھڑتی دوستیاں

آج کا بچپن ایک ڈیجیٹل قید خانے میں سانس لے رہا ہے۔ ہمارے دور میں دوست کا مطلب وہ شخص ہوتا تھا جس کا ہاتھ تھام کر ہم میلوں پیدل چلتے تھے، جس کے ساتھ ہم نہر کے ٹھنڈے پانی میں ڈبکیاں لگاتے تھے اور جس کے ساتھ ہم اپنی آدھی روٹی بانٹتے تھے۔ آج "فرینڈ” صرف ایک کلک کی دوری پر ہے، مگر دکھ سکھ بانٹنے کے لیے کوئی کندھا میسر نہیں۔

​موبائل کی سکرین نے بچوں کی نظریں ہی نہیں، ان کی سوچ بھی دھندلا دی ہے۔ ہم نے مٹی سے جو سبق سیکھا تھا کہ "گر کر کیسے سنبھلنا ہے”، آج کی نسل وہ سبق کسی ایپ میں تلاش کر رہی ہے۔ وہ جو سانجھے رشتوں کی حرارت تھی، اب سوشل میڈیا کے لائیکس اور کمنٹس کی محتاج ہو گئی ہے۔ دوستیاں اب ضرورت اور مطلب کے گرد گھومتی ہیں، وہ جو بچپن کا "ساتھ” تھا، جس میں کوئی لالچ نہ تھا، اب صرف کتابوں کا قصہ بن کر رہ گیا ہے۔ ہم نے دیواریں تو پکی کر لیں، مگر ان کے پیچھے بسنے والے دل کچے کر دیے۔

یادوں کی بازگشت اور ایک تڑپ

بیس بائیس سالہ اس سفر کا نچوڑ یہ ہے کہ ہم نے بہت کچھ پایا مگر اس سے کہیں زیادہ کھو دیا ہے۔ آج جب میں اپنے بچپن کی ان گلیوں کا تصور کرتا ہوں، تو مجھے وہ مٹی پکارتی ہے، وہ برف کی ٹھنڈک آج بھی میری پوروں میں محسوس ہوتی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ کیا وہ مائیں پھر لوٹ کر آئیں گی جو پورے محلے کے بچوں کو اپنا سمجھتی تھیں؟ کیا وہ حیا کا پہرا پھر سے قائم ہوگا جو بنا کہے ہر رشتے کو تحفظ دیتا تھا؟

​میری داستان صرف ایک فرد کی یادداشت نہیں، بلکہ اس پورے معاشرے کا نوحہ ہے جو اپنی جڑوں سے کٹ چکا ہے۔ میں اپنی اس تحریر کے ذریعے ان یادوں کو صرف تازہ نہیں کرنا چاہتا، بلکہ اس احساس کو پھر سے بیدار کرنا چاہتا ہوں کہ زندگی موبائل کی سکرین میں نہیں، بلکہ مٹی کی خوشبو، رشتوں کے لمس اور بے غرض محبت میں پنہاں ہے۔ کاش ہم اپنے بچوں کو وہ بچپن دے سکیں جہاں دیواریں چھوٹی ہوں اور دل اتنے بڑے کہ پوری کائنات ان میں سما سکے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

کشمیر کی سڑکیں موت کی آماجگاہ

Next Post

جموں کے میڈکل کالج میںداخلہ تنازعہ:میرٹ، مذہب اور ریاستی ذمہ داری

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

نسائی شاعری کا ارتقا

کزنز زندگی کے خاموش محافظ….

16/01/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

والدین کی قربانیوں کی کوئی انتہا نہیں

16/01/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

کشمیر کی سڑکیں موت کی آماجگاہ

09/01/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

03/01/2026
حوصلہ شکنی کے بجاۓ حوصلہ افزائی کیجئے ہر شخص جینے کا حق رکھتا ہے۔۔۔!‎

والدین کے ساتھ بد سلوکی تربیت میں کمی یا فرمان برداری کا زوال۔۔۔۔۔!‎

03/01/2026
آپ اتنا شرماتے کیوں ہیں ؟

آپ اتنا شرماتے کیوں ہیں ؟

27/12/2025
Next Post
این ایم سی نے شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی منظوری منسوخ کر دی، طلباء کو دوسرے اداروں میں شفٹ کیا جائے گا

جموں کے میڈکل کالج میںداخلہ تنازعہ:میرٹ، مذہب اور ریاستی ذمہ داری

نسائی شاعری کا ارتقا

نسائی شاعری کا ارتقا

یومِ جمہوریہ: قوم کے لیے ایک قابلِ فخر لمحہ

جموں و کشمیر کے سرکاری تعلیمی ادارے  تشویشناک صورتحال میں ”تعلیم کا اجالا یا انتظامیہ کی تاریکی؟ یو ٹی کے تعلیمی نظام پر ایک نوحہ’’

علمائے حق کی توہین ناقابلِ برداشت: کشمیری قوم کا دوٹوک مؤقف

سانبہ میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد

سانبہ میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »