امت نیوز ڈیسک //
انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر کا حکام کی جانب سے نماز عید کی ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے نامساعد شرائط پر افسوس کا اظہار
انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے مسلسل چوتھے سال تاریخی جامع مسجد میں آج نماز عید ادا نہ کرنے پر انتظامیہ کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
انجمن نے کہا کہ پولیس اور سول حکام نے انہیں جمعہ کی شام دیر گئے مطلع کیا کہ جامع مسجد سری نگر میں نماز عید صرف 7.30 بجے سے پہلے ادا کرنے کی اجازت دی جائے گی جو کہ انجمن کے لیے ممکن نہیں تھا کیونکہ اس نے پہلے ہی 09:00 بجے نماز عید کی ادائیگی کا پروگرام دے رکھا تھا کیونکہ جامع مسجد سری نگر میں دور دراز علاقوں سے لوگ عید کی نماز ادا کرنے کے لیے آتے ہیں۔
انجمن اوقاف نے کہا کہ جامع مسجد وادی میں باجماعت نماز کی مرکزی جگہ ہے نہ کہ کوئی مقامی مسجد۔ اس طرح کی مرکزی عبادت گاہوں کا مقصد مسلمانوں کو ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے تاکہ وہ جمعہ اور دیگر مذہبی مواقع پر بڑی تعداد میں ا نماز ادا کر کے اپنی ملی وحدت اور یکجہتی کا مظاہرہ کر سکیں۔
بیان میں کہا گیا کہ وادی بھر کے لوگوں کو ان مرکزی مقامات تک پہنچنے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے نمازوں کے اوقات اسی کے مطابق طے کیے جاتے ہیں اور جس طرح وقف بورڈ نے درگاہ حضرتبل میں نماز کے اوقات صبح 10.30 بجے مقرر کیا ہے انجمن اوقاف نے بھی صبح 9:00 بجے نماز ادا کرنے کا اعلان کیا تھا۔
انجمن نے کہا کہ یہ انتہائی عجیب بات ہے کہ اگر دوسری جگہوں پر صبح 10:30 بجے باجماعت نماز کی ادائیگی کی اجازت دی جا سکتی ہے تو جامع مسجد میں کیوں نہیں؟، یہاں غیر معقول شرائط کیوں لگائی جا رہی ہیں؟
بیان میں کہا گیا کہ انجمن یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ شب قدر اور جمعتہ الوداع کے عظیم مواقع جامع مسجد میں لوگوں کی بڑی تعداد نے خوشگوار اور پرامن ماحول میں ادا کی تو عید کی نماز میں رکاوٹ ڈالنے کا کیا جواز ہے؟
انجمن نے یہ بات زور دیکر کہی کہ حکام کے اس طرز عمل سے جموں و کشمیر کے مسلمانوں کو شدید دکھ اور تکلیف پہنچی ہے جس طرح کہ اگست 2019 سے میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کی طویل نظربندی کے سبب نماز عید اور دیگر اہم مواقع پر اپنی منصبی ذمہ داریاں اور روح پرور مجالس کے انعقاد پر سرکاری طور پر قدغن بٹھائے گئے ہیں۔











