امت نیوز ڈیسک //
بورڈ آف سکول ایجوکیشن کی طرف سے نویں جماعت کی انگریزی نصاب سے کشمیری صوفی بزرگ شیخ نورالدین ولی رحمتہ اللہ علیہ کا مضمون ہٹانے کے فیصلے کو لے کر تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ رواں برس بورڈ کی طرف سے”شیخ نور الدین ولی رحمتہ اللہ“ کا باب کتاب سے حذف کر لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں وادی کشمیر کے سیاسی لیڈران کی طرف سے اس فیصلے کو لے شدید نکتی چینی کی جا رہی ہے۔
جموں کشمیر پیپلز کانفرنس کے چیئر مین اور رکن اسمبلی سجاد غنی لون نے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ثقافتی دہشت گردی قرار دیا۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں سجاد غنی لون نے کہا کہ شیخ نور الدین نورانی رحمتہ اللہ علیہ کی بلا تفریق ِمذہب لوگ عزت و احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ یہ خالص ثقافتی دہشت گردی ہے یہ ہماری ثقافت اور اخلاقیات پر حملہ ہے۔سجاد لون نے بورڈ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ بورڈ کے وجود میں آنے سے پہلے ہی صوفی بزرگ ہمارے دلوں اور دماغوں میں نقش ہو چکے تھے، انہوں نے کہا کہ بطور کشمیری اس فیصلے کی کڑے الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
سی پی آئی ایم کے سینئر لیڈر اور رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے لکھا کہ یہ انتہائی پریشان کن ہے کہ صوفی بزرگ شیخ العالم کا ایک پورا بات نویں کلاس کی نصابی کتاب سے حذف کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ یہ بلو پینسلنگ جو اسمبلی انتخابات سے قبل کی گئی تھی صوفی روایات سے جڑے معاشرے کے لئے ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے وزیر اعلی عمر عبداللہ سے باب کو پھر سے شامل کروانے کی اپیل کی۔









