امت نیوز ڈیسک //
یونین بجٹ 2026–27 میں مرکز کے زیر انتظام خطہ جموں و کشمیر کے لیے 43,290 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 2,000 کروڑ روپے کا اضافہ ہے۔
بجٹ کی تفصیلات کے مطابق یہ اضافہ جموں و کشمیر کی ترقی اور مالی ضروریات کے لیے مرکز کی مسلسل حمایت کی عکاسی کرتا ہے۔ جاری مالی سال کے لیے نظرثانی شدہ مرکزی امداد 41,340 کروڑ روپے رکھی گئی ہے، جو اصل تخمینے 41,000 کروڑ روپے سے 340 کروڑ روپے زیادہ ہے۔
آنے والے مالی سال کے لیے مرکز نے جموں و کشمیر کے وسائل کے خلا کو پُر کرنے کے لیے 42,650 کروڑ روپے بطور مرکزی امداد تجویز کیے ہیں۔ اس کے علاوہ بجٹ میں 279 کروڑ روپے یونین ٹیریٹری ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ کے لیے بطور گرانٹ مختص کیے گئے ہیں، جس کا مقصد قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
بجٹ میں جہلم–توی فلڈ ریکوری پروجیکٹ کے لیے 259 کروڑ روپے بطور ایکویٹی سپورٹ بھی رکھے گئے ہیں، جو سیلاب کے خطرات میں کمی اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی کے لیے ایک اہم منصوبہ ہے۔ مزید برآں، جموں و کشمیر میں سرمائی اخراجات کے لیے 101 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق اس بڑھتی ہوئی رقم سے واضح ہوتا ہے کہ مرکز کی توجہ جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، آفات سے نمٹنے اور مالی استحکام پر مرکوز ہے۔ توقع ہے کہ اس اضافی بجٹ سے جاری ترقیاتی منصوبوں کو رفتار ملے گی اور انتظامی و عوامی خدمات کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
فنڈز کی شعبہ وار تقسیم کی تفصیلات بعد میں سرکاری بجٹ دستاویزات میں جاری کی جائیں گی۔






