امت نیوز ڈیسک //
راجستھان کے ضلع کوٹا میں پولیس نے مشکوک سرگرمیوں کے تحت چندہ جمع کرنے کے الزام میں جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو گرفتار جبکہ تین دیگر کو حراست میں لے لیا ہے، حکام نے اتوار کو بتایا۔
پولیس کے مطابق پونچھ ضلع کے رہائشی تین افراد کو ہفتہ کے روز بھیم گنج منڈی پولیس نے اس وقت حراست میں لیا جب وہ مبینہ طور پر مدارس کے لیے چندہ جمع کر رہے تھے۔ یہ تینوں ایک گیسٹ ہاؤس میں مقیم تھے، جہاں سے انہیں پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں لیا گیا۔
بھیم گنج منڈی تھانہ انچارج رام کرشن گودارا نے بتایا کہ زیر حراست افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے اور تاحال کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس راجستھان آمد کے مقصد اور چندہ جمع کرنے سے متعلق دعوؤں کی تصدیق کر رہی ہے، جس کے لیے جموں و کشمیر کے حکام سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے۔
یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی ہے جب چند روز قبل، 24 جنوری کو، پونچھ ضلع سے تعلق رکھنے والے دو دیگر افراد کو کوٹا پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ حکام کے مطابق یہ دونوں بھی اسی گیسٹ ہاؤس میں مقیم تھے اور بعد ازاں انہیں جیل بھیج دیا گیا۔
اسٹیشن افسر لائق احمد نے بتایا کہ گرفتار افراد پر غیر قانونی طور پر چندہ جمع کرنے اور امن و امان میں خلل ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں افراد سے مشترکہ تفتیشی کمیٹی (جے آئی سی) نے بھی پوچھ گچھ کی ہے۔
پولیس کے مطابق دستاویزات کی جانچ سے معلوم ہوا کہ گرفتار افراد میں سے ایک کو صرف مدھیہ پردیش میں چندہ جمع کرنے کی اجازت حاصل تھی، مگر وہ کوٹا، راجستھان میں سرگرم تھا۔ جبکہ دوسرے فرد کے معاملے میں دستاویزات سے پتہ چلا کہ جس مدرسے کے لیے چندہ جمع کیا جا رہا تھا، وہ 2025 میں بند ہو چکا ہے۔ دونوں گرفتار افراد کی شناخت فاروق کے نام سے ہوئی ہے اور وہ سورنکوٹ، ضلع پونچھ کے رہائشی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مزید جانچ جاری ہے اور تفتیش کے نتائج کی بنیاد پر مناسب قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔











