امت نیوز ڈیسک//
سرینگر : محبوبہ مفتی نے پاکستان کی شیلنگ، گولہ باری سے تباہ ہوئے سرحدی علاقوں کو ’’جنگ زدہ زون‘‘ قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے متاثرہ کنبوں کو باز آبادکاری کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضہ دینے کی سفارش کی۔ محبوبہ مفتی نے سرینگر میں پریس کانفرنس کے دوران خطاب کرتے ہوئے شیلنگ کے دوران ہلاک ہوئے افراد کو ’’شہید کا درجہ‘‘ دینے کی بھی مانگ کرتے ہوئے لواحقین کو سرکاری نوکریاں فراہم کرنے کی مانگ کی۔
یاد رہے کہ آپریشن سندور کے بعد پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی کے دوران جموں و کشمیر کے سرحدی علاقوں بشمول، جموں، پونچھ اور راجوری کے علاوہ شمالی کشمیر کے اوڑی اور ٹنگڈار علاقوں میں کی گئی گولہ باری کے نتیجے میں بیس سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ ہزاروں عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
محبوبہ مفتی نے بتایا کہ انہوں نے لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں خاص کر پونچھ اور کپوارہ کا دورہ کیا اور وہاں ہوئی تباہی کا از خود مشاہدہ کیا۔ محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا: ’’گولہ باری سے خوفزدہ لوگوں کو ابھی تک حکومت کی جانب سے خاطر خواہ امداد نہیں پہنچائی گئی ہے، بعض لوگ اب بھی ٹینٹ کے منتظر ہیں۔‘‘
محبوبہ مفتی نے یوٹی و مرکزی حکومت سے متاثرین کی بازآبادکاری کے لئے فوری اقدامات کی مانگ کی اور بینک سے حاصل کیے گئے قرض کے بعد تعمیر کیے گئے مکان اور دکانوں کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے ان کے قرضوں کو معاف یا خصوصی پیکیج کے اعلان کی بھی سفارش کی۔
محبوبہ مفتی نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’کئی افراد جو مجھ سے ملاقی ہوئے، نے نجی بنکرز کا مطالبہ کیا۔‘‘ محبوبہ مفتی نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’لوگ اب بھی خوفزدہ ہیں، انہیں لگتا ہے کہ جنگ کبھی بھی چھڑ سکتی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ لوگوں کو اس خوف سے باہر نکالنے کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے۔‘‘
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا: ’’جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور حکومت ہند کو سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی پالیسی کو اپناتے ہوئے سیاسی مداخلت کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے ایک بار پھر دائمی امن کی راہ ہموار کیے جانے کے لیے سیاسی مذاکرات شروع کیے جانے کی سفارش کی۔










