امت نیوز ڈیسک //
جموں: جنوبی کشمیر کے ہمالیائی خطے میں واقع امرناتھ گپھا میں تشکیل پانے والے برفانی شیو لنگ کی پوجا کے لیے یاتریوں کا ایک نیا قافلہ اتوار کی صبح روانہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق یاتریوں کی نئی کھیپ آج جموں کے بیس کیمپ سے روانہ ہوئی۔ اس سال یاتریوں میں کافی جوش و خروش دیکھا جارہا ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق، 7,200 سے زیادہ یاتریوں کا ایک نیا قافلہ جموں کے بیس کیمپ سے اتوار کی صبح امرناتھ گپھا کے لیے روانہ ہوا۔ اسی کے ساتھ تین جولائی سے شروع ہونے والی 38 روزہ سالانہ یاترا کے بعد سے عقیدت مندوں کی کل تعداد 50,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔
حکام کے مطابق 1587 خواتین اور 30 بچوں سمیت 7208 یاتریوں کی پانچویں کھیپ بھگوتی نگر بیس کیمپ سے دو الگ الگ قافلوں میں صبح 3.35 سے 4.15 کے درمیان سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان روانہ ہوئی۔
واضح رہے کہ بدھ کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں کے بیس کیمپ سے جھنڈی دکھا کر یاترا کا آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ یاتریوں کا سب سے بڑا جتھا تھا۔ حکام نے بتایا کہ 147 گاڑیوں میں 3,199 لوگوں کو لے کر یاتریوں کا پہلا قافلہ گاندربل ضلع کے مختصر لیکن 14 کلومیٹر والے بالتل راستے سے روانہ ہوا۔ اس کے بعد 160 گاڑیوں میں 4009 یاتریوں کا دوسرا قافلہ اننت ناگ ضلع کے 48 کلومیٹر طویل روایتی پہلگام راستے سے یاترا پر نکلا۔
گذشتہ رات علاقے میں موسلادھار بارش کی وجہ سے عقیدت مندوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ تین جولائی کو یاترا کے آغاز کے بعد سے اب تک 50,000 سے زیادہ یاتری 3880 میٹر اونچے امرناتھ غار گپھا کے درشن کر چکے ہیں۔
22 اپریل کو پہلگام حملے کے باوجود یاترا معمول کے مطابق جاری ہے، تاہم سکیورٹی کے کافی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے حملے میں 26 لوگ مارے گئے تھے، اس کے پیش نظر بھگوتی نگر بیس کیمپ کو کثیر سطحی حفاظتی حصار میں رکھا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ساڑھے تین لاکھ سے زائد عقیدت مندوں نے یاترا کے لیے آن لائن رجسٹریشن کروایا ہے۔ یاتریوں کی سہولت کے لیے جموں میں درجنوں کیمپ لگائے گئے ہیں۔ موقعے پر عازمین کے رجسٹریشن کے لیے 12 کاؤنٹر قائم کیے گئے ہیں۔








