امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 23 جنوری : جمعرات کی شام سے جموں و کشمیر کے وسیع علاقوں میں تیز اور جھکڑ دار ہواؤں نے شدید تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں املاک کو نقصان پہنچا، بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی اور انتظامیہ کی جانب سے الرٹ جاری کر دیا گیا۔
یہ آندھی وسطی، شمالی اور جنوبی کشمیر کے علاوہ جموں خطے کے کئی حصوں میں بھی محسوس کی گئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق متعدد علاقوں میں درخت جڑ سے اکھڑ گئے، مکانات کی چھتوں کو نقصان پہنچا اور دیواریں منہدم ہو گئیں۔ عوام نے بتایا کہ جنوری کے مہینے میں ہواؤں کی شدت غیر معمولی تھی، جس سے کئی علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
تقریباً ہر علاقے سے دکانوں کے سائن بورڈز کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئیں، جہاں فلیکس بورڈز، ہورڈنگز اور دھاتی فریم تیز ہواؤں کی زد میں آ کر بکھر گئے۔ کئی گھروں کی ٹین شیڈ باڑھ اور عارضی ڈھانچے بھی متاثر ہوئے، جبکہ سڑکوں اور گلی محلوں میں چادریں اور ملبہ بکھرا ہوا دیکھا گیا۔ متعدد بازاروں میں دکانداروں کو مزید نقصان سے بچنے کے لیے رات گئے اپنی دکانیں محفوظ کرنا پڑیں۔
تیز ہواؤں کے باعث کشمیر وادی میں بجلی کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی۔ حکام کے مطابق درختوں اور شاخوں کے ٹرانسمیشن لائنوں پر گرنے اور فیڈرز میں خرابی پیدا ہونے کے باعث بجلی کا نظام متاثر ہوا۔ مرمتی کام شروع کر دیا گیا تاہم مسلسل تیز ہواؤں کے باعث کئی علاقوں میں بحالی کی کارروائی سست رہی۔
مختلف اضلاع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مکانات، شیڈز اور عوامی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، جبکہ بعض علاقوں میں سڑک کنارے کھڑی گاڑیاں بھی گرتے ہوئے ملبے کی زد میں آ گئیں۔ بڈگام ضلع میں ایک شخص ہوا کے دوران گری ہوئی بجلی کی تار سے رابطے میں آنے کے بعد زخمی ہو گیا۔
محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام کو غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت دی اور متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ پر رہنے کا مشورہ دیا، کیونکہ رات بھر تیز ہوائیں چلتی رہیں۔ ہنگامی خدمات اور ضلعی انتظامیہ کو گرے ہوئے درختوں، تباہ شدہ ڈھانچوں اور بجلی کی بندش سے متعلق واقعات سے نمٹنے کے لیے الرٹ پر رکھا گیا۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاط برتیں، کمزور عمارتوں، بجلی کے کھمبوں اور لٹکتی تاروں کے قریب جانے سے گریز کریں اور کسی بھی نقصان کی اطلاع متعلقہ محکموں کو دیں تاکہ بروقت امداد فراہم کی جا سکے۔





