امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سیاسی جماعتوں کو اپنی سیاسی ضروریات کے مطابق ’’تاریخ کو اپنے زاویے سے از سر نو تحریر کرنے‘‘ کے خلاف خبردار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ’’طلباء کو حقائق ایمانداری سے پڑھائے جائیں تاکہ وہ خود اپنی ایک رائے قائم کر سکیں۔‘‘
سرینگر میں محکمہ تعلیم، کشمیر کی جانب سے منعقدہ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی-2020) پر ایک سیمینار میں شرکت کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’سیاسی فائدے کے لیے تاریخ سے چھیڑ چھاڑ کرنا غلط ہے۔‘‘ عمر عبداللہ نے کہا: ’’حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، اگر ایک پارٹی آج تاریخ کو دوبارہ لکھے گی تو کل کوئی اور (جماعت) بھی یہی کام کرے گی۔ بچوں کو حقیقی تاریخ سے واقف کرائیں، وہ خود اپنے زاویے سے نتائج حاصل کریں گے۔‘‘
این سی ای آر ٹی کے اس نظرثانی شدہ ماڈیول کے تنازع پر ایک سوال کے جواب میں، جس میں، تقسیم ہند کو محمد علی جناح اور کانگریس دونوں کے ساتھ جوڑا گیا ہے، عمر عبداللہ نے اسے ’’تاریخ میں سیاسی مداخلت‘‘ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ’’ہندوستان کو تقسیم کرنے میں برطانیہ کے کردار اور اس وقت کے سیاسی حالات کو درست طور پر دکھایا جانا چاہیے۔‘‘
جموں کشمیر کے ریاستی درجہ کی کے لئے لیے نیشنل کانفرنس کی جاری دستخطی مہم پر اپوزیشن کی تنقیدوں کو عمر عبداللہ نے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا: ’’اپوزیشن کا کام مخالفت کرنا ہے۔ اگر وہ ریاست کا درجہ نہیں چاہتے یا عوام سے نہیں ملنا چاہتے تو یہ ان کی مرضی ہے۔ ہم لوگوں کے پاس گئے اور ان سے رابطہ کیا، اگر دوسرے اس پر تنقید کرتے ہیں تو یہ ان کا (ذاتی) معاملہ ہے۔‘‘
نائب صدر کا انتخاب
جگدیپ دھنکھر کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد ہونے والے انتخاب پر ایک سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت کے اس اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا: ’’ہمیں ابھی تک سمجھ نہیں آیا کہ یہ انتخاب کیوں کرایا گیا۔ جب سے دھنکر صاحب نے استعفیٰ دیا ہے، وہ نظر نہیں آئے۔ میں ان کی اچھی صحت کے لیے دعا کرتا ہوں، لیکن میرا ماننا ہے کہ انڈیا بلاک کے امیدوار کو جیتنا چاہیے۔‘‘
کشتواڑ سانحہ میں لاپتہ شہری
کشتواڑ سانحہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’لاپتہ افراد کا زندہ ملنا ناممکن نظر آتا ہے۔ اب لاپتہ افراد کا زندہ ملنا تقریباً ناممکن ہے، ان حالات میں ہم زیادہ سے زیادہ لاشوں کو نکال کر ان کے لواحقین کے حوالے کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب تک کی معلومات کے مطابق یہ بادل پھٹنے کا واقعہ تھا نہ کہ گلیشیر کے پھٹنے کا۔
عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ حکومت مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنے کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دے گی تاکہ خطرے والے دیگر علاقوں کی بھی نشاندہی کی جا سکے۔









