امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 27 جنوری : جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے منگل کے روز اتراکھنڈ میں معروف صوفی شاعر بابا بلھے شاہ کے مزار کی توڑ پھوڑ کے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر دوغلی پالیسی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ بی جے پی قائدین بیرونِ ملک ثقافتی ہم آہنگی اور رواداری کا تاثر پیش کرتے ہیں، جبکہ ملک کے اندر روحانی ہم آہنگی کی علامتوں پر حملوں کے وقت یا تو خاموش رہتے ہیں یا بالواسطہ طور پر اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “بی جے پی کے رہنما بیرونِ ملک مساجد میں تصاویر بنواتے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ کے شیوخ کے لیے سرخ قالین بچھاتے ہیں، مگر اپنے ہی ملک میں صوفی شاعر بابا بلھے شاہ کے مزار کی توڑ پھوڑ کو خوشی سے دیکھتے ہیں۔”
محبوبہ مفتی نے الزام عائد کیا کہ صوفی مزارات اور باہمی بھائی چارے کی علامتوں کو نشانہ بنانا ایک سوچے سمجھے سیاسی ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد عوام کی توجہ مہنگائی، بڑھتی غربت، بے روزگاری اور نوجوانوں کو درپیش غیر یقینی مستقبل جیسے سنگین مسائل سے ہٹانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم آہنگی اور رواداری کی علامتوں کو نقصان پہنچانا ان مسائل کے حل سے کہیں زیادہ آسان سمجھا جا رہا ہے، جبکہ عام شہری شدید معاشی مشکلات اور مواقع کی کمی سے دوچار ہیں۔ محبوبہ مفتی کے مطابق ایسے اقدامات معاشرے میں تفریق کو گہرا کرنے اور بھارت کی تکثیری شناخت کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں۔
واضح رہے کہ بابا بلھے شاہ، جو محبت، برداشت اور انسان دوستی کے پیغام کے لیے جانے جاتے ہیں، کا مزار حال ہی میں اتراکھنڈ میں شرپسند عناصر کی جانب سے نقصان کا شکار بنایا گیا، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ [کے این ٹی]





