امت نیوز ڈیسک //
حکومت کا امکان ہے کہ 20 اگست کو لوک سبھا میں جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن کونسٹی ٹیوشنل ترمیمی بل پیش کرے۔
5 اگست 2019 کو دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر اور لداخ کو الگ الگ مرکز کے زیرِ انتظام علاقے (یونین ٹیریٹریز) قرار دیا گیا تھا، جس کے ساتھ ہی جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بھی ختم ہو گئی تھی۔
آپ جو بتا دیں کہ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے ریاستی درجے کی بحالی کی مانگ کو لے کر ایک عرضی پر تبضرہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلگام حملے کو ریاستی درجہ بحال کرتے ہوئے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔








