امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 4 ستمبر:وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو اُن افراد پر سخت تنقید کی جو 2014 کے سیلاب کے بعد جموں و کشمیر میں برسرِاقتدار تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پچھلے 11 برسوں میں کچھ نہیں کیا گیا تاکہ وادی میں دوبارہ سیلاب نہ آئے۔ عبداللہ نے کہا کہ اگر دریائے جہلم اور اس کے فلڈ چینل کی وقت پر کھدائی (ڈریجنگ) کی گئی ہوتی تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔
عمر عبداللہ نے سیلاب سے متاثرہ شہر کے لَسجن علاقے کا دورہ کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا:
"ہمیں یہ سوال کرنا ہوگا کہ 2014 کے بعد کشمیر میں کیا اقدامات کیے گئے۔ جو یہاں حکمران تھے، انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا جس سے یہ یقینی بنایا جا سکتا کہ دوبارہ سیلاب نہ آئے۔”
جمعرات کی صبح بڈگام ضلع کے شالی نہ میں دریائے جہلم نے کنارے توڑ دیے، جس کے نتیجے میں کئی نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے۔ عبداللہ نے کہا کہ 2014 کے بعد کے 11 سال ضائع ہوئے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انتظامیہ کی بروقت کارروائی کی وجہ سے جانی نقصان تو نہیں ہوا، مگر مالی نقصان اور املاک کو نقصان ضرور پہنچا ہے، جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔
"اگر جہلم اور فلڈ چینل کی کھدائی گزشتہ 11 برسوں میں کی گئی ہوتی تو آج ہمیں اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا،” انہوں نے کہا۔
عمر عبداللہ نے مزید بتایا کہ وہ یونین ہوم منسٹر امیت شاہ کو ایک خط لکھیں گے تاکہ ایک ٹیم کو کشمیر بھیجا جائے جو وادی کے اضلاع میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لے۔
انہوں نے کہا:
"مرکز سے ایک ٹیم جموں ڈویژن کے 10 اضلاع کے نقصانات کا جائزہ لینے آ رہی ہے۔ میں وزیر داخلہ کو خط لکھوں گا کہ وہی ٹیم کشمیر بھی بھیجی جائے تاکہ وادی میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا بھی جائزہ لیا جا سکے۔” (ایجنسیاں)










