امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 28 اکتوبر: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کے روز پی ڈی پی کے ایم ایل اے وحید الرحمان پرا کی جانب سے پیش کیا گیا وہ بل مسترد کر دیا، جس میں سرکاری اور چراگاہی زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کو مالکانہ حقوق دینے کی تجویز رکھی گئی تھی۔
اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت ریاستی زمین کے غیر قانونی قبضے کو قانونی شکل نہیں دے سکتی۔ انہوں نے وحید پرا سے کہا کہ وہ اپنا بل واپس لیں کیونکہ یہ موجودہ قوانین اور زمین سے متعلق ضوابط کے خلاف ہے۔ “ہم غیر قانونی قبضے کو قانونی نہیں بنا سکتے،” وزیر اعلیٰ نے کہا۔
تاہم پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید الرحمان پرا نے بل واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس بل کو سیاسی بنیادوں پر مسترد کر رہی ہے۔ “آپ اس بل کو اپنی پالیسیوں کی وجہ سے رد کر رہے ہیں۔ بی جے پی اسے لینڈ جہاد کہتی ہے، ان سے خوفزدہ نہ ہوں،” پرا نے ایوان میں کہا۔
اس دوران حکومتی اور اپوزیشن بنچوں کے درمیان زبانی جھڑپ بھی ہوئی۔ وحید پرا کا کہنا تھا کہ یہ بل اُن لوگوں کو راحت پہنچانے کے لیے لایا گیا ہے جو دہائیوں سے ایسی زمینوں پر رہائش پذیر ہیں یا ان پر کاشت کاری کر رہے ہیں، جبکہ حکومت کا موقف تھا کہ قانونی تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
وزیر اعلیٰ نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ زمین کے حقوق کا معاملہ قانونی طریقے سے حل ہونا چاہیے اور حکومت کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جس سے ریاستی زمین پر قبضے کی حوصلہ افزائی ہو۔ (کے این ایس)









