امت نیوز ڈیسک //
کشمیر، 25 نومبر: پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے منگل کے روز شری کشمیر انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ایک مبینہ حکم نامے پر شدید تنقید کی ہے، جس میں مبینہ طور پر وی وی آئی پیز کے مہمانوں کو خصوصی ترجیح دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ لون نے اس اقدام کو "طبی سائنس کی توہین” اور "نئی پستی” قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں لون نے کہا کہ جموں و کشمیر کے اس اہم طبی ادارے کی جانب سے جاری ہونے والا یہ حکم نامہ لیفٹیننٹ گورنر اور چیف سکریٹری کے دفاتر سے ریفر ہونے والے مریضوں کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کرنے کی بات کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، "اگر واقعی یہ حکم نامہ جاری ہوا ہے تو یہ ایک نئی پستی کی علامت ہے۔ طب جیسی مقدس پیشے میں VIP کے مہمانوں کو لازمی طور پر ان مریضوں پر ترجیح ملے گی جنہیں طبی بنیادوں پر ترجیح ملنی چاہیے۔”
سجاد لون نے حکم نامے میں ایک ویٹرنری اسسٹنٹ سرجن کی شمولیت پر بھی سوال اٹھایا اور طنزیہ انداز میں پوچھا، "وہ آخر VIP کے ریفر کیے گئے انسانوں کے مریضوں میں کس کا علاج کریں گے؟”
21 نومبر 2025 کے اس مبینہ حکم نامے میں جنرل میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فیاض احمد بھٹ کو اعلیٰ حکومتی دفاتر سے ریفر ہونے والے مریضوں کی سہولیات کے لیے نامزد کیا گیا ہے، جبکہ ڈاکٹر قاضی مدثر جاوید، ویٹرنری اسسٹنٹ سرجن، کو ان کی معاونت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔
لون نے اس حکم نامے کو "طبی سائنس کی تضحیک” قرار دیتے ہوئے SKIMS ڈائریکٹر سے اسے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا، "اس مقدس پیشے کی تذلیل بند کریں۔”
ابھی تک SKIMS کی جانب سے اس متعلق کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔










