امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: بھارتی فوج نے اپنی سوشل میڈیا پالیسی میں ترمیم کرتے ہوئے اہلکاروں کو انسٹاگرام تک محدود رسائی کی اجازت دے دی ہے، تاہم اس پلیٹ فارم پر کسی بھی قسم کی سرگرمی یا تعامل پر بدستور پابندی برقرار رہے گی۔
نئی ہدایات کے مطابق فوجی اہلکار انسٹاگرام کو صرف معلوماتی آگاہی کے لیے ویو اونلی موڈ میں استعمال کر سکیں گے۔ پوسٹ کرنے، تبصرہ کرنے، شیئر کرنے، ری ایکٹ کرنے یا پیغامات بھیجنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ فوج نے اس محدود اجازت کو “غیر فعال شرکت” (Passive Participation) قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ کسی بھی طرح کی شمولیت ممنوع رہے گی۔
یہ ہدایت آرمی ہیڈکوارٹرز کی جانب سے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ملٹری انٹیلی جنس کے ذریعے جاری کی گئی ہے اور اس پر فوری طور پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔ موجودہ سوشل میڈیا رہنما اصولوں میں انسٹاگرام کو باقاعدہ طور پر محدود استعمال والے پلیٹ فارمز میں شامل کر لیا گیا ہے۔
پالیسی میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارتی فوج کے اہلکار انسٹاگرام پر کسی بھی قسم کے خیالات، آراء یا پیغامات کا اظہار نہیں کریں گے۔ درست اور محفوظ استعمال کی مکمل ذمہ داری متعلقہ فرد پر عائد ہوگی۔ اسی نوعیت کی پابندیاں یوٹیوب اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بھی برقرار رہیں گی، جہاں صرف مواد دیکھنے کی اجازت ہے۔
بھارتی فوج نے ایک بار پھر وی پی این، ٹورینٹ ویب سائٹس، کریک شدہ سافٹ ویئر اور گمنام ویب پراکسیز کے استعمال کے خلاف سخت انتباہ جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے ذرائع قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
یہ اقدام فوج کی جانب سے ڈیجیٹل آگاہی اور آپریشنل سیکیورٹی کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاکہ اہلکار تازہ معلومات سے باخبر رہیں مگر کسی بھی ممکنہ سیکیورٹی خطرے سے محفوظ رہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ بھارتی فوج وقتاً فوقتاً فیس بک، ایکس اور انسٹاگرام سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے حوالے سے اپنی پالیسیوں میں ترمیم کرتی رہی ہے۔ یہ پابندیاں خاص طور پر ان واقعات کے بعد سخت کی گئیں جب غیر ملکی ایجنسیوں کی جانب سے ہنی ٹریپ کے ذریعے فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں حساس معلومات کے افشا ہونے کے خدشات پیدا ہوئے۔








