امت نیوز ڈیسک //
ڈھاکہ، 12 فروری: بنگلہ دیش میں جاری پارلیمانی انتخابات کے دوران جمعرات کو مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر تشدد کے واقعات پیش آئے، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے ایک رہنما جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
مقامی میڈیا کے مطابق خولنا ضلع کے عالیہ مدرسہ پولنگ اسٹیشن پر بی این پی رہنما محب الزمان کوچھی مخالف گروپ کے ساتھ جھڑپ کے دوران زخمی ہو گئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بی این پی اور جماعتِ اسلامی کے حامیوں کے درمیان کشیدگی کے بعد انہیں دھکا دیا گیا جس سے وہ درخت سے ٹکرا کر سر پر چوٹ لگنے سے شدید زخمی ہوئے۔ انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے مردہ قرار دیا۔
پولیس حکام کے مطابق واقعہ کی اطلاع ملتے ہی فورس موقع پر پہنچی اور حالات پر قابو پایا۔
دوسری جانب گوپال گنج ضلع کے ایک پولنگ اسٹیشن کے باہر دیسی بم (کاک ٹیل) حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں دو انصار اہلکاروں اور ایک بچے سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔ دھماکے سے ووٹروں میں خوف و ہراس پھیل گیا تاہم پولنگ کا عمل جاری رہا۔
جماعتِ اسلامی نے الزام عائد کیا ہے کہ مختلف علاقوں میں ان کے رہنماؤں اور کارکنوں کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا اور ان پر حملے کیے گئے۔ پارٹی قیادت نے الیکشن کمیشن اور انتظامیہ سے فوری کارروائی اور غیر جانبدارانہ انتخابات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بنگلہ دیش میں یہ اہم پارلیمانی انتخابات سیاسی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے درمیان منعقد ہو رہے ہیں۔






