امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 03 مارچ : وادیٔ کشمیر میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر حکومتِ جموں و کشمیر نے تمام تعلیمی اداروں کو 7 مارچ تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز آبزرور (کے این او) سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم سکینہ ایتو نے کہا کہ طلبہ کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکولوں، کالجوں اور جامعات کو اتوار تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت زمینی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہی تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ ایران کے سپریم لیڈر آیت آللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف وادی بھر میں ہونے والے احتجاج کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ آٹھویں جماعت تک کے اسکول پیر کے روز دو ماہ سے زائد عرصے کے سرمائی وقفے کے بعد کھلنے والے تھے، جبکہ نویں سے بارہویں جماعت تک کے تعلیمی ادارے 23 فروری سے دوبارہ کھل چکے تھے۔
اس سے قبل محکمۂ اسکول ایجوکیشن نے مرحلہ وار سرمائی تعطیلات کا اعلان کیا تھا۔ پری پرائمری (بال واٹیکا) جماعتوں کے لیے تعطیلات 26 نومبر سے 28 فروری تک، پہلی سے آٹھویں جماعت تک یکم دسمبر سے 28 فروری تک جبکہ نویں سے بارہویں جماعت تک 11 دسمبر 2025 سے 22 فروری 2026 تک مقرر کی گئی تھیں۔
محکمہ کی جانب سے اساتذہ کو تعطیلات کے دوران کسی بھی تعلیمی سرگرمی کے لیے دستیاب رہنے کی ہدایت دی گئی تھی اور تدریسی عملے کو 20 فروری 2026 کو اسکولوں میں رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔
ادھر کشمیر وادی کے ڈگری کالجوں میں 52 روزہ سرمائی تعطیلات کے بعد 16 فروری کو تدریسی سرگرمیاں بحال ہوئی تھیں۔ حکومت نے 24 دسمبر 2025 سے 14 فروری 2026 تک سرمائی علاقوں کے کالجوں میں تعطیلات کا اعلان کیا تھا۔





