امت نیوز ڈیسک//
سرینگر: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکہ-اسرائیلی حملوں میں ہلاکت کے خلاف جموں و کشمیر میں ہوئے احتجاج کے ایک روز بعد حکام نے کشمیر بھر میں خاص کر سرینگر کے حساس علاقوں بشمول شیعہ اکثریتی علاقوں میں پابندیاں عائد کر دی ہیں، حکام کی جانب سے یہ پابنایدں امن قائم رکھنے اور مزید احتجاج کو روکنے کے لیے عائد کی گئی ہیں۔
جموں کشمیر پولیس اور نیم فوجی دستوں نے سرینگر کے لالچوک علاقے خاص کر تاریخی گھنٹہ گھر کو سیل کر دیا ہے۔ گزشتہ روز یعنی اتوار کو گھنٹہ گھر کے قریب شیعہ آبادی نے ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف اپنا احتجاج درج کیا۔
حکام نے بتایا کہ لالچوک کو کانٹے دار تاروں سے سیل کر دیا ہے اور گھنٹہ گھر کی اور جانے والے سبھی راستوں پر پہلے بٹھا دئے گئے ہیں اور ٹریفک کی آواجاہی بھی مسدود کر دی گئی ہے تاکہ آج بھی اتوار کی طرح دوبارہ اجتماع نہ ہو سکے۔ حکام کی جانب سے سرینگر کے قدیم شہر اور دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
پیر کو بھی شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے احتجاجیوں نے لال چوک کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی تاہم انہیں پولیس نے اس کی اجازت نہیں دی اور بعض مقامات پر احتجاجیوں کو منتشر کرنے کےلئے سخت اقدامات اٹھائے۔
یہ پابندیاں اس وقت عائد کی گئیں جب جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اتوار کی شام ایک سیکیورٹی میٹنگ کی، جس میں سبھی کمیونٹیز سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی گئی۔ ایل جی نے پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی قانون و نظم برقرار رکھنے پر تعریف بھی کی۔
ہڑتال کی کال
میرواعظ کشمیر مولوی عمر فاروق، جو کہ متحدہ مجلس علماء کے لیڈر ہے، نے آج ہڑتال کی کال دی ہے، جس کی حمایت سابق وزیراعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بھی کی ہے۔
اس ہڑتال کی کال اور پابندیوں کے درمیان، جموں و کشمیر حکومت نے آج اور آئندہ کل یعنی منگل کو تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام نے اس اقدام کے لئے طلباء کی حفاظت کا حوالہ دیا ہے۔
ہڑتال کی وجہ سے دکانیں اور دیگر نجی ادارے بند ہیں۔ عوامی نقل و حمل بھی متاثر ہے کیونکہ سڑکوں پر نجی گاڑیوں کی تعداد انتہائی کم ہے، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل بھی سڑکوں سے غائب ہے۔





