سری نگر: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے خلاف وادی کشمیر میں جاری بڑے پیمانے پر احتجاج کے پیش نظر منگل کو مسلسل دوسرے روز بھی سخت پابندیاں نافذ رہیں۔
حکام کے مطابق پیر کو وادی بھر میں بڑے مظاہروں کے بعد تعلیمی ادارے دو دن کے لیے بند کر دیے گئے جبکہ موبائل انٹرنیٹ کی رفتار احتیاطی تدابیر کے تحت سست کر دی گئی۔ منگل کے روز حالات میں کشیدگی کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز کے قافلوں کی نقل و حرکت بھی منسوخ کر دی گئی۔
انتظامیہ نے بتایا کہ ممکنہ تناؤ سے بچنے کے لیے منگل کو سڑکوں پر سیکیورٹی فورسز کی روڈ اوپننگ پارٹیاں بھی تعینات نہیں کی گئیں۔ بعض مقامات پر احتجاج کے دوران جھڑپوں کے باعث صورتحال کشیدہ ہو گئی تھی۔
پیر کے روز ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں کم از کم 14 افراد زخمی ہوئے جن میں چھ سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں 75 ریلیاں نکالی گئیں جبکہ جموں خطے میں بھی چند مقامات پر مظاہرے دیکھنے میں آئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگست 2019 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کشمیر میں اس نوعیت کے اور اس پیمانے پر احتجاج دیکھنے میں آیا ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کی گئی ہے اور حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔





