امت نیوز ڈیسک //
تہران، 4 مارچ 2026: ایران کے دارالحکومت تہران میں جاری حملوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر بھارت کے سفارتخانے نے اعلان کیا ہے کہ تہران میں موجود بیشتر بھارتی طلبہ کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ “تہران شہر میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر سفارتخانۂ ہند نے وہاں موجود زیادہ تر بھارتی طلبہ کو شہر سے باہر نسبتاً محفوظ علاقوں میں منتقل کر دیا ہے۔” بیان کے مطابق طلبہ کی نقل و حمل، رہائش اور کھانے پینے کے انتظامات بھی سفارتخانے نے کیے ہیں۔
بدھ کے روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی گردش کرتی رہی جس میں طلبہ کو بس کے ذریعے تہران سے باہر منتقل ہوتے دیکھا گیا۔
سفارتخانے نے واضح کیا کہ کچھ طلبہ نے فی الحال تہران میں ہی رہنے کو ترجیح دی ہے۔ ایسے افراد کے لیے پہلے جاری کردہ ہدایات بدستور برقرار ہیں۔ انہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گھروں کے اندر رہیں، کھڑکیوں سے دور رہیں، مظاہروں اور ہجوم والی جگہوں سے اجتناب کریں اور ہر وقت احتیاط برتیں۔
سفارتخانے نے ایران میں موجود بھارتی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ باقاعدگی سے سفارتخانے سے رابطے میں رہیں۔ ہنگامی صورتحال کے لیے خصوصی ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کیے گئے ہیں۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ نے بھی کہا ہے کہ ایران میں موجود کشمیری طلبہ کو ملک کے اندر نسبتاً محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
ایک روز قبل ایران کے قونصل جنرل نے کہا تھا کہ بھارت سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور دیگر شہریوں کو مخصوص سرحدی راستوں سے ملک چھوڑنے کی اجازت دی جائے گی اور سرحد پار کرنے کے لیے پاسپورٹ کے علاوہ کسی اضافی دستاویز کی ضرورت نہیں ہوگی۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سفارتی سطح پر اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں تاکہ غیر ملکی شہریوں کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔






