(واشنگٹن)
امریکی صدر ٹرمپ نے سپین کی حکومت کے ساتھ تعلقات پر سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ۔۔۔
اگر سپین نے امریکی طیاروں کو ایران پر حملوں کے لیے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دی اور نیٹو میں دفاعی بجٹ بڑھانے سے انکار کیا تو امریکا اس کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات ختم کر دے گا۔
ٹرمپ نے یہ بیان جرمن چانسلر فریڈرک مرز سے ملاقات کے دوران دیا اور کہا ہم سپین سے کچھ نہیں چاہتے اور اس کے ساتھ تعلقات ختم کریں گے ۔
واضح رہے اسپین نے امریکا کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اپنی فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ہسپانوی اخبار El Pais کے مطابق میڈرڈ نے باضابطہ طور پر امریکی۔اسرائیلی فوجی آپریشن کی حمایت سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے ذریعے اسپین نے فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے مؤقف سے فاصلہ اختیار کیا ہے، جنہوں نے خلیج فارس اور قبرص میں تہران کے حملوں کے جواب میں ممکنہ جارحانہ اقدامات پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ اسپین کے وزیر خارجہ José Manuel Albares نے کہا کہ یورپ کی آواز اس وقت توازن اور اعتدال کی ہونی چاہیے، جس کا مقصد کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی ہو۔ انہوں نے خلیجی ممالک اور Cyprus پر ایران کے حملوں کی مذمت بھی کی اور قبرص کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔











