امت نیوز ڈیسک //
واشنگٹن: روس نے ایران کو ایسی معلومات فراہم کی ہیں جو خطے میں امریکی جنگی جہازوں، طیاروں اور دیگر اثاثوں کو نشانہ بنانے میں تہران کی مدد کر سکتی ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ نے امریکی انٹیلی جنس سے واقف دو اہلکاروں کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے۔
یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل ایران پر اپنی بمباری جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایران امریکی اثاثوں اور اسرائیل میں مختلف اہداف پر جوابی حملے کر رہا ہے۔
یہ پہلا اشارہ ہے کہ ماسکو اس جنگ میں شامل ہونے کی کوشش کر رہا ہے جو امریکہ اور اسرائیل نے ایک ہفتہ قبل ایران پر مسلط کی ہے۔ روس ان ممالک کے کلب میں شامل ہے جن کے تہران کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار ہیں۔
حالانکہ وائٹ ہاؤس نے ان رپورٹوں کو مسترد کر دیا کہ روس خطے میں امریکی اہداف کے بارے میں ایران کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ کر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے جمعہ کو صحافیوں کو بتایا کہ "اس سے واضح طور پر ایران میں فوجی کارروائیوں کے حوالے سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہے کیونکہ ہم انہیں مکمل طور پر ختم کر رہے ہیں۔”
جمعہ کو سی بی ایس کے "60 منٹ” انٹرویو میں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکہ "ہر چیز کا سراغ لگا رہا ہے” اور اسے جنگی منصوبوں میں شامل کر رہا ہے۔
جب امریکی وزیر دفاع سے ان رپورٹوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ روس ایران کی مدد کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ "امریکی عوام اس بات کا یقین کر سکتے ہیں کہ ان کا کمانڈر ان چیف اچھی طرح جانتا ہے کہ کون کس سے بات کر رہا ہے۔” "اور جو کچھ بھی نہیں ہونا چاہیے، چاہے وہ عوامی ہو یا بیک چینل کے ذریعہ، اس کا سختی سے سامنا کیا جا رہا ہے۔”
لیویٹ نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ آیا ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے مبینہ انٹیلی جنس شیئرنگ کے بارے میں بات کی ہے یا کیا وہ سمجھتے ہیں کہ روس کو اس کے نتائج کا سامنا کرنا چاہیے۔ اس سوال پر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا روس سیاسی حمایت سے آگے بڑھ کر ایران کو فوجی مدد کی پیشکش کرے گا، کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ تہران کی طرف سے ایسی کوئی درخواست نہیں آئی ہے۔ انہوں نے جمعہ کو کہا کہ "ہم ایرانی فریق کے ساتھ، ایرانی قیادت کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور یقینی طور پر یہ بات چیت جاری رکھیں گے۔”
انہوں نے اس سوال پر بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ آیا ماسکو نے ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے تہران کو کوئی فوجی یا انٹیلی جنس مدد فراہم کی ہے۔ روس نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کافی گہرے ہیں کیونکہ ماسکو کو یوکرین کی چار سالہ جنگ کے دوران ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی کی ضرورت تھی۔
دریں اثنا، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اور مشرق وسطیٰ میں اس کے اتحادی کو ایران کے شاہد ڈرون کا مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین کی مہارت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ مغربی ذرائع کا دعویٰ رہا ہے کہ تہران یوکرین کے خلاف اپنی جنگ کے لیے روس کو شہید ڈرون کی فراہمی اور اس کے پروڈکشن میں کرتا رہا ہے اور اب انہیں پورے خلیج میں اپنے انتقامی حملوں میں استعمال کر رہا ہے۔
زیلنسکی کا کہنا ہے کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، اردن اور کویت سے ممکنہ تعاون کے بارے میں بات کی ہے۔ "یوکرین جانتا ہے کہ شاہد ڈرون حملوں کے خلاف کس طرح دفاع کرنا ہے کیونکہ ہمارے شہروں نے تقریباً ہر رات ان کا سامنا کیا ہے۔”
وہیں پینٹاگون کو اس سوال کا سامنا ہے کہ آیا ایران کی جنگ امریکی اسلحہ کے ذخائر کو ختم کر رہی ہے۔ ٹرمپ نے رواں ہفتے ایک بیان میں کہا کہ سابق صدر جو بائیڈن نے یوکرین کو اربوں کا اعلیٰ ترین ہتھیار فراہم کیا اور وہ امریکی ذخائر کو بھرنے میں ناکام رہے۔





