امت نیوز ڈیسک //
قم، 9 مارچ: ایران کے دارالحکومت تہران سے منتقل کیے گئے کشمیری طلبہ نے ایک بار پھر ہندوستانی سفارتخانے اور وزارتِ خارجہ (MEA) سے اپیل کی ہے کہ انہیں موجودہ صورتحال کے پیش نظر کسی زیادہ محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔
میڈیکل کے طلبہ کے ایک گروپ کے مطابق انہیں چند روز قبل احتیاطی اقدام کے طور پر تہران سے ایران کے شہر قم منتقل کیا گیا تھا۔ تاہم طلبہ کا کہنا ہے کہ اب ان کے موجودہ مقام کے آس پاس بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس کے بعد ان میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
طلبہ نے بتایا کہ وہ ایران کی کم از کم پانچ مختلف یونیورسٹیوں سے تعلق رکھتے ہیں اور منتقلی کے دوران انہیں ایک ساتھ قم منتقل کیا گیا۔ ان کے مطابق ابتدا میں اس اقدام کا مقصد انہیں تہران کی صورتحال سے دور نسبتاً محفوظ مقام پر رکھنا تھا۔
تاہم طلبہ کا کہنا ہے کہ موجودہ مقام کے قریب حملوں کی خبریں آنے کے بعد نہ صرف وہ بلکہ ہندوستان میں موجود ان کے اہلِ خانہ بھی شدید فکر مند ہیں۔
ایک طالب علم نے بتایا:
“ہمیں چند دن پہلے تہران سے قم منتقل کیا گیا تھا، لیکن اب اس علاقے کے اردگرد بھی حملوں کی اطلاعات ہیں جس سے ہم پریشان ہیں۔”
طلبہ نے تہران میں ہندوستانی سفارتخانے اور وزارتِ خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے انہیں کسی زیادہ محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا انتظام کریں۔
طلبہ کے مطابق ان میں سے بیشتر ایران میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور خطے کی صورتحال سے متعلق خبروں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہندوستانی حکومت اور اس کی سفارتی مشینری ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔ ایک طالب علم نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ حکومت ان کی اپیل پر غور کرے گی اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کرے گی۔
طلبہ نے ہندوستانی حکام سے اپیل کی کہ وہ جلد از جلد اقدامات کریں تاکہ وہ خوف و ہراس کے بغیر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں اور ان کے اہلِ خانہ کو بھی اطمینان حاصل ہو۔
اس سلسلے میں تہران میں ہندوستانی سفارتخانے کی جانب سے طلبہ کی تازہ اپیل پر فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم ماضی میں ہندوستانی حکومت بیرونِ ملک مشکل حالات میں پھنسے اپنے شہریوں اور طلبہ کی مدد کے لیے مربوط اقدامات کرتی رہی ہے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ان کی درخواست پر جلد غور کیا جائے گا۔





