امت نیوز ڈیسک //
تہران: ایران میں علما کی شوریٰ ‘مجلسِ خبرگان رہبری’ نے نے امریکہ اور اسرائیل کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے اتوار کو مقتول سربراہ خامنہ ای کے صاحبزادے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کرنے کا اعلان کیا۔
امریکی-اسرائیلی حملوں میں بزرگ رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت اور مشرق وسطیٰ میں 9 دنوں سے دہک رہی جنگ کے بیچ مجلسِ رہبری علما (ماہرین کی اسمبلی) نے اپنا اگلا لیڈر منتخب کرنے کے لیے اجلاس بلایا۔
مجلسِ رہبری نے ایک بیان میں کہا کہ "56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کے تیسرے رہبر کے طور پر مقرر کیا گیا ہے اور ان کا انتخاب مجلس کے معزز نمائندوں کے فیصلہ کن ووٹ کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔”
اس میں کہا گیا ہے کہ علما کی تنظیم نے "مجرم امریکہ اور شیطانی صیہونی حکومت کی وحشیانہ جارحیت” کے باوجود نیا لیڈر منتخب کرنے میں "ایک منٹ کے لیے بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی”۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل مجتبیٰ خامنہ ای کو ‘ہلکا’ قرار دے کر ان کے ممکنہ انتخاب کی مخالفت کر چکے ہیں۔ ٹرمپ نے اتوار کو ایک بار پھر اصرار کیا کہ نئے رہنما کی تقرری میں ان کا کردار ہونا چاہیے۔
امریکی صدر نے مجتبی خامنہ ای کی تقرری کے اعلان سے قبل اے بی سی نیوز کو بتایا کہا کہ "اگر انہیں ہم سے منظوری نہیں ملتی ہے تو وہ زیادہ دیر تک نہیں چل پائیں گے۔” وہیں اسرائیلی حکومت اور فوج نے پہلے ہی مقتول ایرانی رہبر کے کسی بھی جانشین کو خبردار کیا ہے کہ "ہم آپ کو نشانہ بنانے سے نہیں ہچکچائیں گے”۔
امریکی صدر کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے تہران کے اعلیٰ سفارت کار نے اتوار کو کہا کہ یہ فیصلہ اکیلے ایران کا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "کسی کو ہمارے ملکی معاملات میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی”۔
این بی سی کے "میٹ دی پریس” پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ٹرمپ سے جنگ شروع کرنے کے لیے "خطے کے لوگوں سے معافی مانگنے” کا مطالبہ کیا۔
متعلقہ خبر: مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں: ایران کے حکمرانی نظام میں ایک بااثر شخصیت
مجتبیٰ خامنہ ای کو خاص طور پر اسلامی جمہوریہ کی فوج کے نظریاتی بازو، پاسداران انقلاب کے ساتھ ان کے تعلقات کی وجہ سے قدامت پسند شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔





