وادیٔ کشمیر میں عیدالفطر سے قبل اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث عام لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ بازاروں میں سبزیوں، گوشت، پھلوں، مٹھائیوں اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں اچانک بڑھ گئی ہیں۔
ماہ رمضان شروع ہوتے ہی اگر چہ وادی کشمیر میں محکمہ فوڈ سیفٹی اگر چہ متحرک نظر آئی تھی اور وادی میں مارکیٹ چیکنگ بھی ہر ضلع میں کی جا رہی تھی تاکہ ماہ رمضان میں قیمتوں کو اعتدال میں رکھا جا سکے۔تاہم جیسے جیسے عید قریب آرہی ہے ویسے ہی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہےاورضروری ایشیاء خوردونوش غریب کیا متوسط طبقے کی قوت خرید سے بھی باہر نظر آرہی ہیں۔ مٹن کی اگر بات کی جائے عید سے چند روز قبل ہی آل کشمیر بچر یونین کی جانب سے ازخود ہی مٹن کی قیمت میں اضافہ کیا گیا۔ قصائی یونین کی جانب سے عید کے محض چند روز قبل ہی مٹن فی کلو 740 کر دیا ہے۔ تازہ ریٹ لسٹ کے تحت ڈریسڈ مٹن کی قیمت 740 روپے فی کلو بغیر اوجھڑی اور 700 روپے فی کلو 100 گرام اوجھڑی کے ساتھ مقرر کی گئی ہے۔
آل کشمیر بچر یونین کے صدر خضر محمد ریگو نے بتایا کہ موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔سال 2023 میں حکومت نے جموں و کشمیر مٹن (لائسنس اینڈ کنٹرول) آرڈر 1973 کو منسوخ کر دیا تھا، جس کے بعد گوشت کی قیمتیں سرکاری کنٹرول میں نہیں رہیں اور مٹن قیمتیں زیادہ تر بازار کی صورتحال اور قصائی یونین کے فیصلے کے تحت بڑھائی جاتی ہیں۔
دوسری طرف سے ہول سیل مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری معراج الدین گنائی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے قیمتیں ڈی کنٹرول ہونے کے بعد ہول سیل ڈیلرز کا قیمتوں پر کوئی اختیار نہیں رہا اور نہ ہی قیمتوں میں اضافہ کرتے وقت ان سے مشورہ کیا جاتا ہے۔ وہیں انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اگر چہ اضافہ ہونا چاہیے تھا لیکن اس وقت موزوں وقت نہیں تھا۔ دوسری طرف سے صارفین کی جانب سے اس پر شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ صارفین کا ماننا ہے کہ ہر سال قصائی مٹن کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہیں جس کے باعث صارفین کے پاس مٹن کی قوت خرید نہیں رہتی ۔دراصل مٹن ایکٹ کے خاتمے کے بعد سال 2023 میں قصابوں نے گوشت کی قیمت میں تقریباً 115 روپے فی کلو اضافہ کرتے ہوئے اسے 650 روپے تک پہنچا دیا تھا۔ بلکہ اسکے بعد 50 روپے اضافہ کر کے قیمت 700 روپے فی کلو مقرر کی گئی۔ اب ایک سال بعد دوبارہ 40 روپے کا اضافہ کرتے ہوئے نئی قیمت 740 روپے فی کلو مقرر کر دی گئی ہے۔ مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری معراج الدین گنائی کا یہ بھی کہنا ہے انکے یونین کو قیمتیں بڑھانے کے دوران اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ وہیں دوسری طرف سے سرینگر کے ساتھ وادی کے مختلف علاقوں میں قصائی یونین کی جانب قیمتیں 740 کرنے کے بجایے من مانے طریقے سے قصائیوں نے 800 روپے فی کلو گوشت فروخت کرنا شروع کر دیا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عید آتے ہی صورتحال کا غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔مٹن ہی نہیں بلکہ چکن بھی اس وقت مارکیٹ میں 160 سے 170 فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔جبکہ اسکے ساتھ ساتھ بیکری آئٹمز، مرغی، پھل، سبزیاں اور کپڑوں کی قیمتیں اچانک بڑھا دی گئی ہیں، جس سے عید کی خریداری صارفین کے لیے مشکل ہو گئی ہے۔ جبکہ دکانداروں سے بڑھتی قیمتوں پر اگر گاہک سوال پوچھ بھی لے تو اسے دوسری دکان پر جانے کا سخت لہجے میں مشورہ دیا جاتا ہے۔ان قیمتوں کو قابو میں کرنے کے لیے محکمہ فوڈ سیفٹی کہیں نظر بھی نہیں آرہا ہے۔ وہیں صارفین کابھی الزام ہے کہ محکمہ فوڈ سیفٹی کے اہلکار آج ان اہم دنوں میں کئی پر بھی نظر نہیں آتے۔
دوسری طرف سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد سے ابنائے ہرمز کی بندش کی پوری دنیا میں تیل اور گیس کی قلت پائی جا رہی ہے۔ سرکار کی طرف سے اگر چہ کہا جا رہا ہے کہ وادی میں کئی ہفتوں کے لیے ایل پی جی گیس کا سٹاک موجود ہے۔ وادی کیساتھ ساتھ جموں میں بھی صارفین گیس ایجنسیز کے باہر لمبی لمبی قطاروں میں نظر آرہے ہیں اس امید کیساتھ کہ انہیں ایک گیس سلنڈر مل جائے۔ بلکہ دوسری طرف سے سرکار کی جانب سے کئی علاقوں میں بلیک مارکیٹنگ کی پاداش میں سینکڑوں گیس سلنڈر بھی ضبط کیے گئے ہیں۔






