انسانی زندگی صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جس میں اللہ کے حقوق کے ساتھ ساتھ بندوں کے حقوق بھی برابر کی اہمیت رکھتے ہیں حقوق العباد وہ امانت ہیں جو ہر انسان کے ذمے ہیں اور یہ وہ قرض ہیں جو سجدوں تسبیحوں اور لمبی عبادتوں سے بھی ادا نہیں ہوتے جب تک کہ بندوں کے دل راضی نہ ہوں.
آج کا انسان عبادات میں تو آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے مگر اکثر وہ لوگوں کے حقوق کو نظر انداز کر دیتا ہے ہم نماز پڑھتے ہیں روزے رکھتے ہیں صدقہ دیتے ہیں مگر اسی کے ساتھ ہم کسی کا دل بھی دکھا دیتے ہیں کسی کی عزت کو مجروح کر دیتے ہیں یا کسی کا حق دبا لیتے ہیں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق تو معاف کر سکتا ہے مگر بندوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک مظلوم خود معاف نہ کرے.
حقوق العباد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے انسانوں کے درمیان ہونے والے معاملات کا فیصلہ کیا جائے گا. اس دن نہ دولت کام آئے گی نہ طاقت نہ عہدہ اور نہ ہی کوئی سفارش اگر کسی نے کسی کا حق مارا ہوگا تو اس کی نیکیاں اس مظلوم کو دے دی جائیں گی اور اگر نیکیاں ختم ہو گئیں تو مظلوم کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے یہ وہ انصاف ہوگا جس میں کسی کے ساتھ ذرہ برابر بھی ناانصافی نہیں ہوگی.
ہمارے معاشرے میں آج سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے حقوق پامال کر رہے ہیں کہیں امیر غریب کا حق کھا رہا ہے کہیں طاقتور کمزور کو دبا رہا ہے کہیں زبان کے تیر کسی کے دل کو زخمی کر رہے ہیں اور کہیں جھوٹ دھوکہ اور خیانت عام ہو چکی ہے ہم یہ سب کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر ایک آنسو ہر ایک آہ اور ہر ایک دل کی تکلیف اللہ کے محفوظ ہو رہی ہے.
حقوق العباد صرف بڑے بڑے معاملات تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی شامل ہیں کسی سے نرمی سے بات کرنا کسی کی عزت کا خیال رکھنا امانت کو دیانت داری سے ادا کرنا وعدے کو پورا کرنا اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنا یہ سب حقوق العباد کا حصہ ہیں. ایک مسکراہٹ بھی کسی کا حق ہو سکتی ہے اور ایک سخت لفظ بھی کسی پر ظلم بن سکتا ہے.
اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان صرف عبادت گزار بن جائے بلکہ یہ ہے کہ وہ ایک اچھا انسان بھی بنے ایسا انسان جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے جو انصاف کرے جو معاف کرنا جانتا ہو اور جو دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے جو انصاف کرے جو معاف کرنا جانتا ہو اور جو دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے کیونکہ اگر اللہ کو راضی کرنا ہے تو اس کے بندوں کو بھی راضی کرنا ضروری ہے.
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ حقوق العباد ایک ایسا امتحان ہے جس میں کامیابی صرف عبادات سے نہیں بلکہ کردار اخلاق اور انسانیت سے حاصل ہوتی ہے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری عبادات قبول ہوں اور ہماری زندگی بابرکت ہو تو ہمیں اپنے رویوں کو بدلنا ہوگا لوگوں کے حقوق ادا کرنے ہوں گے اور ہر اس دل کو جو ہم نے دکھایا ہے اسے منانا ہوگا کیونکہ یاد رکھیں. ٹوٹے ہوئے دلوں کی آہیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں اور حقوق العباد کا حساب کبھی معاف نہیں ہوتا جب تک بندے خود معاف نہ کریں.






