کشمیر کے صوفی موسیقی کا گلوکاری اور آفتاب آواز کا بادشاہ محمد عبداللہ متو(تارہ بلی)” المروف عبہ تار بلہ“ کی 12مارچ 2026 انتقال ہوا ۔ وادی کشمیرمیں جن فنکاروں نے بلند مقام حاصل کیا، ان میں محمد عبداللہ تار بلی نمایاں نظرآتے ہیں۔ خوش مزاج، نرم دل اور نیک طبیعت انسان کی تلاش کسی تابندہ فنکار میں کی جائے تو ایسے مداح کی نگاہ ایک ہی تصویر پر آکے ٹھہر جاتی ہے،وہ بے پناہ صلاحیت کے مالک اور آواز سے نوازے گئےمحمد عبداللہ تارہ بلی صاحب کی واحد مثال ہیں۔ محمد عبداللہ تاربلی صاحب کی شخصیت اور فن پر اظہار خیال کرنے والا ہر شخص اسے اونچے فنکار اور اچھے انسان قرار دیتا ہے، کیونکہ فن نہ صرف تخلیقی صلاحیتوں کا مظہر ہے بلکہ یہ گہرے انسانی جذبات و احساسات کو بھی پیش کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی جادوئی کیفیت ہے جو دیکھنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، جیسا کہ ویکیپیڈیا سے معلوم ہوتا ہے۔محمد عبداللہ تارہ بلی صاحب نے صوفی موسیقی کا جو بھی کلام گایا اس کی کشش کا کمال دیکھئے ! آج بھی کوئی کلام اس کی آواز کانوں میں گونجتا ہے، توراہ چلتے تک کے دل میں خواہش ہوتی ہے،اور روک جاتا ہے ۔جہانِ صوفی موسیقی کیلئے محمد عبداللہ تارہ بلی صاحب کا قدرت کا معجزہ تھے، کیونکہ صوفی شاعری کا ہر شعر اپنی جگہ مکمل اور فنی طور پر حسین ہوتا ہے۔ جب اس میں رسیلی آواز شامل ہوتی ہے، تو وہ مزید دلکش ہو جاتا ہے۔
محمد عبداللہ تار بلی صاحب کو وادی کشمیر کی ثقافتی اور ادبی میراث کے تحفظ میں ان کے گراں قدر تعاون کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ محترم تاربلی صاحب کی سحر انگیز آواز اور روایتی کشمیری موسیقی کے ذریعے عوامی سطح پر بے حد مقبول تھے۔انہوں نے کشمیر میں صوفیانہ کلام اور صوفیانہ موسیقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا اور ان کی گلوکاری میں روحانیت کا رنگ نمایاں تھا۔ محمد عبداللہ تارہ بلی صاحب کے انتقال کو کشمیر کے ثقافتی اور موسیقی کے حلقوں میں ایک بڑا نقصان قرار دیا گیا ہے۔
محمد عبداللہ تار بلی صاحب کے انتقال سے کشمیر کی ثقافتی، ادبی اور صوفی موسیقی کا ایک درخشاں باب کا بند ہو گیاہے۔ تاربلی صاحب نہ صرف ایک مشہور گلوکار تھے، بلکہ ایک صاحبِ حال صوفی فنکار تھے۔ تار بلی صاحب میرے والد محترم مرحوم عبدل سلام ڈار اومپورہ کے کے قریبی دوست تھے۔ والد محترم کے ساتھ میں ایک دن ان کے دولت خانے تاربل میں ملا تھا۔ان کی شخصیت میں اخلاص، محبت اور شفقت تھی۔
تاربلی صاحب نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہر صوفی موسیقی کے ساتھ ساتھ روحانی طلب اور باطنی تربیت میں گزاری۔ محمد عبداللہ تار بلی صاحب کے انتقال سے وادی کشمیر ایک ممتاز فنکار اور ایک مخلص انسان دوست شخصیت سے محروم ہو گئی.
اللہ تعالیٰ تاربلی صاحب پر اپنی رحمت کے خزانوں سے بے شمار رحمتیں نازل فرمائے،انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں۔آمین یارب العالمین۔






