دنیا کے اس شور و فتن میں
ہم سے وہ مہرباں بچھڑ گئے
جن کی ذات تیغِ عیاں تھی.
وہ قائدِ محبوب، وہ راہبر
ہم سے جدا ہوئے تو یوں لگا
جیسے زمانے بھر کے دلوں سے
اک نور کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔
سادہ تھی ان کی زندگی، زہد تھا ان کا شیوہ
ہزاروں دلوں کو انہوں نے نئے زاویے دیے
اندھیروں میں ڈوبی ہوئی نسلوں کو
امید کے چراغ تھما دیے۔
آج ہر اک دل ہے غم سے نڈھال
ہر سوگوار چہرہ، ہر اشک بار آنکھ
گلیوں سے نکلتے جلوسوں کی آوازیں
فضاؤں میں گونج رہی ہیں
"وہ ہم میں نہیں، مگر ان کی صدائیں
ہم میں زندہ ہیں”۔
امن تھا، سکون تھا، مگر
ان کے بعد یوں لگتا ہے
جیسے دنیا جنگ کی آگ میں گھِر گئی
یا جیسے زمانے بھر کے دلوں سے
محبت نکل گئی۔
مگر ان کی تعلیمات کا نور
دلوں میں ہمیشہ رہے گا
ان کا پیغامِ حریت
ہر نسل کو راستہ دکھاتا رہے گا۔