امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کو 15 نکاتی منصوبہ بھیجا ہے۔ اسی کے ساتھ واشنگٹن خطے میں ممکنہ زمینی کارروائی کے پیش نظر مزید فوج اور میرینز بھی بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔
نیویارک ٹائمز کی خبر کے مطابق، یہ 15 نکاتی امن منصوبہ منگل کو پاکستان کے ذریعے ایرانی حکام کے ساتھ شیئر کیا گیا۔ اے بی سی نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس منصوبے میں ایران کے بیلسٹک میزائل اور جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ سمندری راستوں سے متعلق مطالبات شامل ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اسرائیل نے ان تجاویز پر دستخط کیے ہیں یا نہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، 15 نکاتی منصوبے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی تین اہم جوہری تنصیبات کو ختم کرے، ایرانی سرزمین پر کسی بھی قسم کی افزودگی بند کرے، اپنے بیلسٹک میزائل کو معطل کرے، پراکسیوں کی حمایت ترک کرے اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھول دے۔
اس کے بدلے میں بین الاقوامی برادری کی طرف سے ایران پر جوہری پروگرام سے متعلق پابندیاں ختم ہو جائیں گی، نیز امریکہ اس کے سول نیوکلیئر پروگرام کی مدد اور نگرانی بھی کرے گا۔
امریکہ نے "اسنیپ بیک” میکانزم کو ہٹانے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے، جو ایران کی تعمیل میں ناکام ہونے کی صورت میں خودکار پابندیاں دوبارہ لگانے کی اجازت دیتا ہے۔
اس 15 نکاتی پروگرام میں ایران کی جانب سے نطنز، اصفہان اور فردو جوہری تنصیبات کو ختم کرنے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو اپنی جوہری تنصیبات تک مکمل رسائی دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایران سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے "علاقائی پراکسی پیراڈائم” کو ترک کر دے اور اپنی پراکسیوں کی فنڈنگ، رہنمائی اور انہیں مسلح کرنا بند کرے۔
وہیں ایران نے کسی بھی نوعیت کے مذاکرات کی تردید کی ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ نے ایران کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی یکطرفہ ڈیڈ لائن میں توسیع کر دی ہے۔ اس اہم آبی گزرگاہ پر تہران کی سختی نے بین الاقوامی جہاز رانی کو ٹھپ کر دیا ہے، ایندھن کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں اور عالمی معیشت کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ دریں اثنا، اسلامی جمہوریہ پر فضائی حملے بھی جاری ہیں جب کہ ایران میزائلوں اور ڈرونز سے اسرائیل اور پورے خطے میں مختلف اہداف کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔
اسرائیلی سیکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیم منگل، 24 مارچ، 2026 کو تل ابیب، اسرائیل میں ایرانی میزائل حملے کے مقام کا جائزہ لیتے ہوئے (AP)
مزید فوجیوں کی تعیناتی
دریں اثنا، امریکی فوج مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود 50,000 فوجیوں کی مدد کے لیے کم از کم ایک ہزار مزید فوجیوں کو بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا کہ پینٹاگون مزید میرینز تعینات کرنے کا پروسس شروع کر دیا ہے۔ وہیں بعض ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ تین ہزار فوجی بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
وہیں اسرائیلی حکام ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کی پُرزور وکالت کر رہے ہیں۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ امریکی انتظامیہ ‘قبل از وقت’ جنگ بندی کا اعلان کر سکتی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی قسم کے مذاکرات کو بہت بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ واشنگٹن کے بہت سے بدلتے ہوئے مطالبات، خاص طور پر ایران کے بیلسٹک میزائل اور جوہری پروگرام سے متعلق نکات پر اتفاق رائے تک پہچنا مشکل ہے۔ تاحال یہ تک واضح نہیں ہے کہ ایران کی حکومت میں بات چیت کا اختیار کس کے پاس ہوگا – یا وہ ٹرمپ کے ان 15 نکاتی مطالبات پر بات چیت کے لیے آمادہ بھی ہوں گے یا نہیں۔ ایران امریکہ کی منشا سے متعلق انتہائی شکوک و شبہات کا شکار ہے، جس نے دو بار اعلیٰ سطحی مذکرات کے دوران ہی تہران پر حملہ کر دیا۔





