امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 24 مارچ: حکومتِ ہند نے مغربی ایشیا میں جاری بحران پر غور کے لیے بدھ کے روز کل جماعتی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اجلاس خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور اس کے بھارت پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں بلایا گیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے پارلیمنٹ میں مغربی ایشیا کی صورتحال پر خطاب کے بعد کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے پیر کے روز کہا تھا کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے باعث پیدا ہونے والے عالمی حالات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں، اس لیے ملک کو متحد اور تیار رہنا ہوگا، جیسے کہ کورونا وبا کے دوران قوم نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا تھا۔
پارلیمنٹ میں حکومت کا مؤقف
لوک سبھا میں اپنے بیان میں وزیرِ اعظم نے ایندھن، کھاد، قومی سلامتی اور مغربی ایشیا میں مقیم بھارتی شہریوں پر ممکنہ اثرات سے متعلق خدشات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے “عام خاندانوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔”
انہوں نے زور دیا کہ اس بحران کے حوالے سے بھارتی پارلیمنٹ کی طرف سے ایک متفقہ اور متحد آواز دنیا تک پہنچنی چاہیے۔
سفارت کاری ہی واحد راستہ: وزیرِ اعظم
مودی نے کہا کہ بھارت انسانیت اور امن کے اصولوں پر قائم ہے اور تنازع کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔ ان کے مطابق بھارت کی تمام کوششیں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کی طرف مرکوز ہیں۔
اپوزیشن کی تنقید
کانگریس پارٹی نے وزیرِ اعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران پر جاری امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کی مذمت نہیں کی۔ پارٹی نے مودی کی تقریر کو “خود ستائی، کمزوری اور یک طرفہ بیانیے کی مثال” قرار دیا۔
خطے میں بھارتی مفادات
وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ مغربی ایشیا بھارت کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ خلیجی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ بھارتی شہری رہتے اور کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں بھارتی ملاح تجارتی جہازوں پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں جو ان سمندری راستوں سے گزرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہی وجوہات کی بنا پر بھارت کی تشویش فطری طور پر زیادہ ہے اور ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کی متحد آواز عالمی برادری تک پہنچے۔




