امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 24 مارچ:دہلی کی ایک عدالت نے منگل کے روز کشمیری علیحدگی پسند رہنما اور تنظیم دُخترانِ ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کے ایک مقدمے میں قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج چندر جیت سنگھ نے سزا کا اعلان اس وقت کیا جب فریقین کے دلائل مکمل ہو گئے۔ عدالت نے آسیہ اندرابی کے ساتھ ان کی دو ساتھیوں صوفی فہمیدہ اور نہیدہ نسرین کو بھی اسی مقدمے میں 30، 30 سال قید کی سزا سنائی۔
عدالت نے اس سے قبل 14 جنوری 2026 کو تینوں خواتین کو یواے پی اے کی دفعات 20، 38 اور 39 کے تحت مجرم قرار دیا تھا، جن کا تعلق دہشت گرد تنظیم کی رکنیت اور اس کی معاونت سے ہے۔
قومی تحقیقاتی ایجنسی نے عدالت سے آسیہ اندرابی کے لیے عمر قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش کی، اس لیے سخت سزا ضروری ہے تاکہ ریاست کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث افراد کو واضح پیغام دیا جا سکے۔
یہ فیصلہ کشمیر کی علیحدگی پسند سیاست سے وابستہ ایک اہم مقدمے میں اہم عدالتی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔




