امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: حکومت مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے بحران پر سیاسی رہنماؤں کو بریفنگ دینے کے لیے بدھ کو ایک کل جماعتی اجلاس کرے گی۔ یہ اقدام بھارت پر اس بحران کے معاشی اور سکیورٹی اثرات کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے بیچ اٹھایا جا رہا ہے۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ شام پانچ بجے میٹنگ کی صدارت کریں گے۔ توقع ہے کہ اس میٹنگ میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر تمام پارٹیوں کے رہنماؤں کو تازہ ترین پیش رفت اور بھارت کے سفارتی موقف کے بارے میں بریفنگ دیں گے۔ یہ اجلاس پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کے بیانات کے بعد ہو رہا ہے، جس میں انہوں نے صورت حال کو ایک "بے مثال بحران” قرار دیا جس کے نتائج ممکنہ طور پر دیرپا ہو سکتے ہیں۔
مغربی ایشیا میں لڑائی اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، جس نے اہم سمندری تجارتی راستوں خاص طور پر آبنائے ہرمز کو شدید طریقے سے متاثر کیا ہے۔ اس کشیدگی کی وجہ سے توانائی کی عالمی منڈی میں بڑا اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، سپلائی چین اور افراط زر کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے حکومت سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کو تیز کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔
کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹیاں حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ اس مسئلے پر پارلیمنٹ میں تفصیل سے بحث کرے۔ راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے مکمل بحث کے بجائے حکومت کی بریفنگ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صورت حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایوان میں مکمل بحث ضروری ہے۔
متعلقہ خبر: مغربی ایشیا میں جنگ سے توانائی بحران، بھارت کو سنگین نتائج کا خدشہ: نریندر مودی
لوک سبھا کے قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی "کمزور” ہوچکی ہے اور اب قومی مفادات کے بجائے ذاتی مفادات پر چل رہی ہے۔ کل جماعتی اجلاس بلانے کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ وہ کیرالہ میں پہلے سے طے شدہ مصروفیات کی وجہ سے شرکت کرنے سے قاصر ہوں گے۔
یہ کل جماعتی میٹنگ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی زیر صدارت سکیورٹی صورت حال پر اعلیٰ سطح کی جائزہ میٹنگ کے ٹھیک ایک دن بعد ہو رہی ہے۔ جائزہ میٹنگ میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان، تینوں فوجی سربراہان، اور ڈی آر ڈی او کے چیئرمین ڈاکٹر سمیر کامت سمیت کئی سینئر حکام نے شرکت کی۔ اس کا مقصد خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال کا جائزہ لینا تھا۔
جیسا کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور ان کے عالمی اثرات تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔ توقع کی جاتی ہے کہ اس اجلاس موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے بھارت کی حکمت عملی پر وسیع سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔






