امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: کشمیر کی معمر خاتون علیحدگی پسند لیڈر آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا سنائے جانے پر جموں کشمیر خاص کر وادی میں سیاسی بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ جہاں ایک جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بعض لیڈران نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے وہیں مولوی عمر فاروق، محبوبہ مفتی سمیت دیگر کئی رہنماؤں نے اس فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
علیحدگی پسند لیڈر اور میرواعظ کشمیر مولوی عمر فاروق نے سماجی رابطہ گاہ ایکس پر لکھا: "آسیہ اندرابی صاحبہ اور ان کی ساتھیوں – صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نسرین – کو سزا سنانا لمحہ فکریہ ہے۔ پہلے ہی نظر بندی میں گزارے گئے برسوں کو دیکھتے ہوئے سنائی گئی سزا کی شدت اور سختی عیاں اور نمایاں ہے۔” یاد رہے کہ گزشتہ روز علیحدگی پسند رہنما آسیہ اندرابی کو دہلی کی ایک کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی۔ اندرابی گزشتہ سات برسوں سے قید میں ہے اور ان کا خاوند بھی گزشتہ تین دہائیوں سے بھی زائد عرصہ سے جیل میں ہے۔
میرواعظ نے ایکس پر مزید لکھا: ” ہم امید کرتے ہیں کہ جمہوری اقدار کے مطابق اور انسانی بنیادوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے کیس کا حساسیت اور ہمدردی کے ساتھ جائزہ لیا جائے، خاص طور پر آسیہ جی کی عمر اور صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں رہا کیا جائے۔”
ادھر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی صدر محبوبہ مفتی نے آسیہ اندرابی کے طریقہ کار اور ان کے سیاسی نظریات کے ساتھ اپنا کھلا اختلاف بیان کرتے ہوئے آسیہ اندرابی کی صحت اور عمر کا لحاظ کرتے ہوئے سنائی گئی سزا پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا: "ان کے سیاسی نظریات کے ساتھ ساتھ ہمیشہ سے میرے اختلاف رہے ہیں مگر ان کی عمر اور جیل میں بتائے گئے اتنے برسوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی سزا پر نظر ثانی کی جانے چاہئے” محبوبہ مفتی نے "عمر قید” کو "تا حیات” قید کے بجائے ایک مخصوص مدت تک کے لیے کیے جانے کا بھی مطالبہ کیا۔






