امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 31 مارچ :متحدہ مجلسِ علماء (ایم ایم یو) نے نیشنل کانفرنس کے رکنِ اسمبلی اور سابق جج حسنین مسعودی کے شراب فروشی سے متعلق حالیہ بیان پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ایم ایم یو کے ترجمان نے اس بیان کو “لاپرواہ اور انتہائی افسوسناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ محض ریونیو کے حصول کے لیے شراب کی فروخت کو جائز ٹھہرانا قابلِ مذمت ہے۔
ترجمان کے مطابق، شراب نوشی اسلام میں صریحاً حرام ہے اور اس کی اجازت دینا جموں و کشمیر کے مذہبی و سماجی اقدار کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شراب نہ صرف خاندانوں میں انتشار، مالی مشکلات اور گھریلو مسائل کو جنم دیتی ہے بلکہ معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو بھی کمزور کرتی ہے۔
ایم ایم یو نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ایسی باتیں ایک ایسی سیاسی جماعت کے رہنما کی جانب سے سامنے آئی ہیں جو خود کو کشمیر کی تہذیب، شناخت اور روایات کی محافظ قرار دیتی ہے۔ تنظیم کے مطابق، معاشی مفادات کو اخلاقی، سماجی اور انسانی فلاح و بہبود پر ترجیح دینا حکمرانی کے ایک خطرناک طرزِ فکر کی عکاسی کرتا ہے۔
متحدہ مجلسِ علماء نے حکمران جماعت این سی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر اپنا واضح موقف پیش کرے اور جموں و کشمیر میں شراب پر مکمل پابندی عائد کرنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے۔ ساتھ ہی شراب کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی بھی اپیل کی گئی۔
تنظیم نے کہا کہ معاشرے اور آنے والی نسلوں کے مفاد میں اس “معروف سماجی برائی” کے خلاف فیصلہ کن اقدامات ناگزیر ہیں۔





