امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 03 اپریل:جموں و کشمیر کے انسدادِ بدعنوانی بیورو نے جمعہ کے روز بتایا کہ ضلع بارہمولہ کے اُڑی علاقے میں تعینات ایک نائب تحصیلدار اور ایک پٹواری کے خلاف مبینہ رشوت ستانی کے معاملے میں عدالت میں چارج شیٹ پیش کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق ملزمان میں اُس وقت کے نائب تحصیلدار اُوڑی، الطاف حسین خان، اور حلقہ اُوڑی کے پٹواری پردیپ کمار شامل ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ریونیو دستاویزات فراہم کرنے کے عوض رشوت طلب کی۔
اے سی بی کے ترجمان نے بتایا کہ یہ کارروائی ایف آئی آر نمبر 12/2024، پولیس اسٹیشن اے سی بی بارہمولہ کے تحت انجام دی گئی۔
شکایت گزار نے 11 ستمبر 2023 کو اے سی بی سے رجوع کیا تھا، جس میں اس نے الزام لگایا کہ اُس نے 10 مرلہ زمین خرید کر وہاں مکان تعمیر کیا، تاہم فروخت کنندہ کے ساتھ تنازع کے باعث جب وہ تحصیل دفتر اُوڑی سے ضروری دستاویزات لینے گیا تو متعلقہ افسران نے اُس سے رشوت طلب کی۔
بیان کے مطابق ابتدائی طور پر 10 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا، جسے بعد میں کم کر کے ایک لاکھ روپے کر دیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ شکایت گزار نے رشوت دینے سے انکار کرتے ہوئے اے سی بی بارہمولہ میں تحریری شکایت درج کرائی، جس کے بعد تحقیقات کے دوران ٹریپ آپریشن ترتیب دیا گیا۔ کارروائی کے دوران نائب تحصیلدار الطاف حسین خان کو 50 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا اور رقم بھی برآمد کر لی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات کے دوران پٹواری پردیپ کمار کے کردار کے شواہد بھی سامنے آئے، جس کے بعد دونوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
اے سی بی کے مطابق حکومتِ جموں و کشمیر سے استغاثہ کی منظوری حاصل کرنے کے بعد دونوں ملزمان کے خلاف انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1988 کی دفعہ 7 اور 12 کے تحت، نیز بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) کی دفعہ 61 کے تحت اسپیشل جج اینٹی کرپشن کورٹ بارہمولہ میں چالان پیش کیا گیا ہے۔
عدالت نے اس مقدمے کی آئندہ سماعت کے لیے 2 مئی 2026 کی تاریخ مقرر کی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ سال 2026 کے دوران پولیس اسٹیشن اے سی بی بارہمولہ کی جانب سے مختلف بدعنوانی کے مقدمات میں یہ ساتویں چارج شیٹ ہے۔





