اسلام آباد / واشنگٹن / تہران، 6 اپریل:پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت کرتے ہوئے جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے، جسے غیر رسمی طور پر “اسلام آباد معاہدہ” کہا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس منصوبے میں دو مرحلوں پر مشتمل فریم ورک شامل ہے، جس کے تحت پہلے فوری جنگ بندی اور پھر ایک طویل مدتی معاہدے کی جانب پیش رفت کی جائے گی۔ اگر فریقین اس تجویز پر متفق ہو جاتے ہیں تو فوری طور پر جنگ بندی نافذ ہو سکتی ہے اور عالمی سطح پر نہایت اہم آبی گزرگاہ ابنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق تمام نکات پر آج ہی اتفاق ضروری ہے تاکہ فوری جنگ بندی ممکن ہو سکے۔ ابتدائی معاہدہ ایک مفاہمتی یادداشت کی صورت میں طے پائے گا، جبکہ حتمی مذاکرات اسلام آباد میں متوقع ہیں۔
اس سفارتی کوشش میں پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، جو امریکی نائب صدر جے ڈی وانس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
دوسری جانب اطلاعات کے مطابق 45 روزہ عارضی جنگ بندی پر بھی بات چیت جاری ہے، جو مستقل امن کی طرف پہلا قدم ہو سکتی ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں کسی معاہدے کے امکانات محدود ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ گزرگاہ زیادہ عرصہ بند رہی تو عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ممکنہ حتمی معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی اور اس کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی رہائی شامل ہو سکتی ہے۔
تاحال ایران کی جانب سے اس تجویز پر کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ سفارتی رابطے تیزی سے جاری ہیں۔
ادھر امریکی صدر نے بھی جنگ کے فوری خاتمے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد پیش رفت نہ ہوئی تو نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔





