امت نیوز ڈیسک //
اقوام متحدہ، 7 اپریل : سلامتی کونسل یو این میں آبنائے ہرمز کی صورتحال پر پیش کی گئی ایک اہم قرارداد روس اور چین نے ویٹو کر کے مسترد کر دی۔
یہ قرارداد بحرین کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جسے 11 ممالک کی حمایت حاصل ہوئی، جبکہ دو نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا اور روس و چین نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
قرارداد میں ابنائے ہرمز میں جہازرانی کے تحفظ کے لیے ممالک کو دفاعی بحری تعاون کی ترغیب دی گئی تھی، تاہم اس میں طاقت کے استعمال کی اجازت شامل نہیں تھی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے گرد جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز میں جہازرانی متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی تیل کی رسد اور معیشت پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
بحرین کے وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل میں کہا کہ آبنائے ہرمز کا تحفظ عالمی معیشت کے استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے، اور اس میں رکاوٹ عالمی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ فوری طور پر تجارتی جہازوں پر حملے اور نقل و حرکت میں رکاوٹیں ختم کرے اور سفارتی مذاکرات کی جانب واپس آئے۔
تاہم روس اور چین کا مؤقف تھا کہ یہ قرارداد کشیدگی کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتی ہے، جس کے باعث اسے ویٹو کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی ایک اہم گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اس لیے وہاں کی صورتحال پوری دنیا کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔






