امت نیوز ڈیسک //
واشنگٹن، 8 اپریل (آئی این ایس): امریکی صدر ٹرمپ نے ایران میں ایک “بہت پیداواری نظامی تبدیلی” (Regime Change) کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران میں یورینیم افزودگی کو مکمل طور پر ختم کرے گا، ساتھ ہی ممکنہ طور پر پابندیوں میں نرمی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ مل کر کام کرے گا، جہاں حالیہ پیش رفت کو انہوں نے “مثبت تبدیلی” قرار دیا۔ یہ بیان امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے اعلان کے ایک دن بعد سامنے آیا۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کو اب یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ مل کر زیر زمین موجود جوہری مواد کو نکالنے اور ختم کرنے کے لیے اقدامات کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مواد سخت سیٹلائٹ نگرانی میں ہے اور حملے کے بعد سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں معاشی پابندیوں میں نرمی اور تجارتی معاملات پر بھی بات چیت ہو رہی ہے، اور متعدد نکات پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے، تاہم انہوں نے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
اسی دوران ٹرمپ نے ایران کو ہتھیار فراہم کرنے والے ممالک کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ممالک پر امریکہ میں فروخت ہونے والی تمام اشیاء پر فوری طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، اور اس میں کسی قسم کی چھوٹ نہیں ہوگی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کی یہ پالیسی ایک طرف معاشی دباؤ بڑھانے اور دوسری طرف مشروط سفارتکاری کو آگے بڑھانے کی حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔




