امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 3 فروری: مرکز نے کشمیر میں مجوزہ تین ریلوے منصوبوں کو مقامی لوگوں، سیب کے باغبانوں اور منتخب نمائندوں کے اعتراضات کے بعد روک دیا ہے۔ ان منصوبوں کے باعث بڑے پیمانے پر زمین کے حصول اور سیب کے باغات پر پڑنے والے منفی اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا۔
خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز آبزرور (کے این او) کے مطابق، مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے کہا کہ اس وقت سری نگر سے بارہمولہ تک ریلوے لائن پہلے ہی موجود ہے، جبکہ وادی میں تین مزید ریلوے لائنیں بچھانے کی تجاویز زیر غور تھیں۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت اور اراکینِ پارلیمنٹ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ان مجوزہ منصوبوں سے سیب کے باغات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچتا، جس کے پیش نظر حکومت نے ان منصوبوں کو فی الحال روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ جنوبی کشمیر کے اضلاع پلوامہ، شوپیان اور اننت ناگ میں سیب کے باغبانوں اور مقامی باشندوں کی جانب سے جاری احتجاج کے پس منظر میں لیا گیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں سے زرعی اور باغبانی زمین متاثر ہوگی، باغات کو نقصان پہنچے گا اور کئی خاندان بے گھر ہو سکتے ہیں۔
گزشتہ چند مہینوں کے دوران مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن میں منصوبوں کے روٹ میں تبدیلی، مناسب معاوضہ اور زمین کے حصول سے قبل مشاورت کا مطالبہ کیا گیا۔




