• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعرات, اپریل ۹, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی

کیا ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کامیاب رہے گی؟؟

رضوان سلطان

by امت ڈیسک
09/04/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

ایران اور امریکہ کے درمیان 39 روز تک جاری رہنے والی تباہ کن جنگ پر کئی ممالک کی جانب سے سخت کوششوں کے بعد عارضی روک لگا دی گئی۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے قبل دی گئی تجویز کو امریکہ اور ایران نے قبول کیا۔ ان تجاویز میں ابنائے ہر مز کو کھولنا اور امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے بند کرنا۔

صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ”پاکستان وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر، اور اس شرط کے ساتھ کہ ایران ہرمز کی گزرگاہ کھولے، میں ایران پر بمباری اور حملے کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر راضی ہوں۔ یہ ایک دوطرفہ جنگ بندی ہوگی”۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ "ہم نے اپنے تمام فوجی مقاصد حاصل اور مکمل کر لیے ہیں، اور ایران کے ساتھ دیرپا امن اور مشرق وسطیٰ میں امن کے حوالے سے معاہدے کی راہ میں کافی پیش رفت ہو چکی ہے۔”ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے، جسے وہ مذاکرات کی بنیاد کے طور پر کارآمد سمجھتے ہیں۔ "ماضی کے تمام تنازعات کے نکات امریکہ اور ایران کے درمیان طے پا چکے ہیں، مگر دو ہفتے کی مدت معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے دی گئی ہے۔”

اسی طرح سے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لکھا کہ”وزیراعظم شہباز شریف کی برادرانہ درخواست، امریکہ کی جانب سے 15 نکاتی تجویز پر مذاکرات کی خواہش، اور امریکی صدر کی جانب سے ایران کی 10 نکاتی تجویز کے عمومی فریم ورک کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرنے کے اعلان کو مدنظر رکھتے ہوئے، میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی جانب سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ اگر ایران پر حملے روک دیے جائیں تو ہماری طاقتور مسلح افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں معطل کر دیں گی۔“

امریکی صدر کی جانب سے عباس عراقچی کا بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی شئیر کیا گیا۔ اگر چہ ان بیانات میں ایران کے دس نکات ظاہر نہیں کیے گئے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق دس نکات میں: امریکہ کی جانب سے ایران پر آئندہ کسی بھی حملے کی مکمل ضمانت، آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار رکھا جائے، ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کیا جائے، ایران پر عائد تمام امریکی پابندیاں ختم کی جائیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایران کے خلاف تمام قراردادیں ختم کی جائیں، عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی اور قراردادیں منسوخ کی جائیں، جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ایران کو مکمل معاوضہ دیا جائے، مشرق وسطیٰ سے امریکی افواج کا مکمل انخلا کیا جائے، جنگ بندی کو لبنان سمیت تمام محاذوں تک وسیع کیا جائے، معاہدے کو اقوام متحدہ کی ایک لازمی قرارداد کے ذریعے قانونی حیثیت دی جائے۔

تاہم اس جنگ بندی کو سبو تاژ کرنے کی کوشش ایک بار پھر سے اسرائیل کی جانب سے کی گئی جب اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے بیان میں کہا کہ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔ وہیں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ دس اپریل کو پاکستان میں مذاکرات ہونے والے ہیں جہاں دونوں ممالک کے نمائندے جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت کریں گے۔

لیکن دوسری طرف سے اسرائیل نے لبنان پر شدید بمباری کر دی۔ رپورٹس کے مطابق 60 سے زائد مقامات پر بمباری کی گئی جن میں 250 سے زائد افراد ازجان اور قریب ایک ہزار زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حملے اسکے باوجود بھی ہوئے کہ شہباز شریف نے بیان میں واضح کیا تھا کہ لبنان بھی جنگ بندی میں شامل ہوگا۔دوسری طرف سے امریکی صدر نے بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا اور جوہری سرگرمیوں پر مکمل کنٹرول یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا،”یورینیم کی کسی بھی قسم کی افزودگی نہیں ہوگی،اور امریکہ ایران کے ساتھ مل کر گہرائی میں دفن جوہری مواد کو نکالے گا اور اسے ختم کرے گا۔“انہوں نے مزید لکھا کہ جو ملک ایران کو فوجی ہتھیار فراہم کرے گا، اس کی امریکہ کو بھیجی جانے والی ہر قسم کی مصنوعات پر فوری طور پر 50 فیصد ٹیرف نافذ ہوگا، اور اس میں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔

لبنان پر اسرائیل کی بمباری اور ٹرمپ کے بیان پر ایران کی جانب سے سخت موقف اختیار کیا گیا۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب جو اس وقت ابنائے ہرمز کو کنٹرول کر ری ہے نے جہازوں کے لیے متبادل راستہ اختیار کرنے کو کہا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے کا ارادہ رکھنے والے بحری جہازوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بحری حفاظت کے اصولوں پر عمل کریں اور سمندری بارودی سرنگوں سے محفوظ رہنے کے لیے متبادل راستے اختیار کریں۔

دوسری طرف سے ایران کی جانب سے مذاکراتی وفد کی قیادت کر رہے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ”امریکی صدر واضح طور پر کہا تھا کہ ایران کی 10 نکاتی تجاویز وہ قابلِ عمل بنیاد ہے جس پر مذاکرات کیے جا سکتے ہیں تاہم، ان تجاویز کی تین شقوں کی اب تک خلاف ورزی کر دی گئی ہے۔

ایرانی سپیکر نے کہا کہ ان خلاف ورزیوں میں لبنان میں جنگ بندی نہ کرنے اور ایران کے یورینیم کی افزودگی کے حق سے انکار کے علاوہ ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی شامل ہیں۔ اسکے بعد امریکی صدر کی جانب سے ایک اور تازہ دھکمی ایران کو دی گئی۔ انہوں نے سوشل ٹروتھ پر لکھا کہ اگر حتمی معاہدے کی پوری طرح تعمیل نہیں ہوئی تو بمباری دوبارہ شروع ہو جائے گی۔

امریکی صدر نے مزید لکھا کہ جب تک ایک حقیقی اور حتمی معاہدہ نہیں ہو جاتا تب تک پہلے سے تباہ شدہ دشمن کے خاتمے کے لیے ضروری تمام امریکی بحری اور ہوائی جہاز، اور فوجی عملہ اضافی گولہ بارود، ہتھیار، اور اس کے لیے درکار ہر چیز کے ساتھ ایران کے آس پاس موجود رہیں گے۔

لیکن ان سارے خدشات کے باوجود پاکستان میں ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ ایرانی وفد مذاکرات کے لیے اسلام آباد آیے گا جبکہ اس سے قبل وائٹ ہاوس نے بھی کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہوں گے۔ جبکہ ایران کی طرف سے محمد باقر قالیباف اور عباس عراقچی ہونگے۔ اس بیچ جے ڈی وانس نے بھی بیان دیا ہے کہ لبنان جنگ بندی میں شامل نہیں ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان صورتحال ہر گھنٹے تبدیل ہو رہی ہے اور موجودہ صورتحال کے بیچ کل یعنی دس اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات شروع ہونگے۔ اس بیچ دیکھنا دلچسپ رہے گا کہ کیا اسرائیل لبنان پر بمباری روکے گا؟اور اگر نہیں تو کیا ایران مذاکرات کے تیار ہوگا ؟

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

خلیجی جنگ کے بعد ایران اور سعودی عرب کے درمیان پہلی بار رابطہ بحال، کشیدگی کم کرنے پر زور

Next Post

شجر کاری

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

خلیجی جنگ کے بعد ایران اور سعودی عرب کے درمیان پہلی بار رابطہ بحال، کشیدگی کم کرنے پر زور

خلیجی جنگ کے بعد ایران اور سعودی عرب کے درمیان پہلی بار رابطہ بحال، کشیدگی کم کرنے پر زور

09/04/2026
محبوبہ مفتی نے ایران کی تعریف، پاکستان کے کردار کو کشیدگی کم کرنے میں اہم قرار دیا

محبوبہ مفتی کا حکومت پر غریب مخالف پالیسیوں کا الزام

09/04/2026
*پہلگام روڈ حادثہ میں موٹرسائیکل سوار ہلاک، 2 سوار زخمی*

کویت میں سڑک حادثہ: جموں و کشمیر کے پانچ مزدور جاں بحق، لواحقین کی میتوں کی وطن واپسی کی اپیل

09/04/2026
جموں و کشمیر میں ایندھن اور ایل پی جی کی کوئی کمی نہیں، عوام افواہوں پر دھیان نہ دیں: وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ

امریکہ کو جنگ بندی کے لیے اسرائیل کو قابو میں رکھنا ہوگا: عمر عبداللہ

09/04/2026
کپواڑہ میں آگ لگنے کا واقعہ، 7 مسافر بسیں خاکستر

کپواڑہ میں آگ لگنے کا واقعہ، 7 مسافر بسیں خاکستر

09/04/2026
محبوبہ مفتی نے ایران کی تعریف، پاکستان کے کردار کو کشیدگی کم کرنے میں اہم قرار دیا

محبوبہ مفتی نے ایران کی تعریف، پاکستان کے کردار کو کشیدگی کم کرنے میں اہم قرار دیا

08/04/2026
Next Post
بالکونی ۔۔۔میرا عکس میری تحریر

شجر کاری

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »