امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 9 اپریل : جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ بندی کی کامیابی کے لیے امریکہ کو اسرائیل پر قابو رکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنازع ایران نے شروع نہیں کیا بلکہ اس پر مسلط کیا گیا ہے۔
ایس کے آئی سی سی سری نگر میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، عمر عبداللہ نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کی، خاص طور پر لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر۔ انہوں نے کہا، “اگر جنگ بندی ناکام ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری ایران پر نہیں بلکہ صرف اسرائیل پر ہوگی۔ امریکہ کو اسرائیل کو روکنا ہوگا۔”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ واشنگٹن سے آنے والے بیانات میں تسلسل کی کمی ہے۔ “وہ صبح کچھ کہتے ہیں، دوپہر میں کچھ اور اور شام کو کچھ اور۔ ان کی زبان کسی بھی شخص کو زیب نہیں دیتی، ایک صدر کو تو بالکل بھی نہیں،” انہوں نے کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر عام لوگ اس طرح کی زبان استعمال کریں تو انہیں سوشل میڈیا پر بلاک کر دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ “لوگ امریکی صدر سے خوفزدہ ہیں”، اسی لیے بار بار دھمکیوں کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔
عمر عبداللہ نے مزید کہا، ”سب سے پہلے اس جنگ کا مقصد واضح ہونا چاہیے تھا۔“
بھارت کی سفارتی پوزیشن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات شاید اسے ثالثی کے کردار ادا کرنے سے روک رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ،”صرف اسرائیل کو اس جنگ کی ضرورت تھی۔ اگر ہمارے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اتنے قریبی نہ ہوتے تو شاید بھارت بھی پاکستان کی طرح کوئی کردار ادا کر سکتا تھا“۔





